بھارتی پارلیمنٹ میں بہار متنازع قانون پر شدید احتجاج، کانگریس کا انتخابی بائیکاٹ کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
بھارتی پارلیمنٹ میں بہار متنازع قانون پر شدید احتجاج، کانگریس کا انتخابی بائیکاٹ کا عندیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 26 July, 2025 سب نیوز
نئی دہلی (آئی پی ایس )بھارتی ریاست بہار میں متنازع قانون اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے تحت ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے معاملے نے ملک کی سیاست میں زبردست ہلچل پیدا کردی ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں اس قانون کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے، جب کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد نے انتخابات کے بائیکاٹ کا عندیہ دے دیا ہے۔ مودی حکومت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے الیکشن کمیشن جیسے اہم ادارے کو غیر جانبدار ادارے کے بجائے سیاسی ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے۔
اپوزیشن کا دعوی ہے کہ بہار انتخابات سے قبل اقلیتی ووٹرز کو فہرست سے نکال کر منظم دھاندلی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جو بھارتی آئین کے آرٹیکل 326 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق ہر بالغ شہری کو ووٹ دینے کا مساوی حق حاصل ہے، جسے موجودہ حکومت پامال کر رہی ہے۔دی وائر کے مطابق قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے الیکشن کمیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اب ہندوستان کا ادارہ نہیں لگتا، یہ اپنا کام نہیں کر رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 60 سال کی عمر کے ہزاروں نئے ووٹرز کا اندراج دراصل ووٹوں کی منظم چوری کا حصہ ہے۔
کانگریس کے بہار انچارج کرشنا الاوارو نے اس پورے عمل کو آمرانہ قرار دیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کا جاری کردہ ڈیٹا مکمل طور پر غلط ہے۔ ان کے مطابق یہ سارا عمل ووٹ اور الیکشن چوری کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، اور یہ صرف بہار کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 60.
آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے اسمبلی انتخابات کے بائیکاٹ کو کھلا آپشن قرار دیا ہے، جبکہ ڈپٹی لیڈر لوک سبھا گورو گوگوئی کا کہنا ہے کہ حکومت کی خاموشی عوام کے ووٹ چھیننے کا ثبوت ہے۔ اقلیتی ووٹروں کو جان بوجھ کر فہرست سے خارج کرنے کو جمہوری اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ این آر سی اور سی اے اے کے بعد ایس آئی آر پالیسی دراصل اقلیتوں کی شہریت کو نشانہ بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مودی حکومت بھارت کو ہندوتوا نظریے کے تحت ایک انتہا پسند ریاست میں بدلنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، جس کے اثرات نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کی جمہوریت پر پڑ رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرراولپنڈی:غیرت کے نام پر قتل 17 سالہ لڑکی کی قبرکشائی کا حکم،والدین،بہن بھائی اور سسر قتل میں شامل راولپنڈی:غیرت کے نام پر قتل 17 سالہ لڑکی کی قبرکشائی کا حکم،والدین،بہن بھائی اور سسر قتل میں شامل عمران خان کی 9مقدمات میں ضمات مسترد ہونے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج مون سون بارشوں کے پانچویں سپیل کا 28 جولائی سے آغاز، اربن فلڈنگ کا خدشہ چھبیس نومبر احتجاج کیس: غیر حاضر ملزمان کے ضمانتی مچلکوں کو ضبط کرنے کا حکم چُن چُن کر سزائیں دی جا رہی ہیں، کوئی تو ہے جو خوفزدہ ہے، علیمہ خان فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا انجام عبرتناک موت ہے: محسن نقوی، سرفراز بگٹیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔