ای سی سی: گھر تعمیر کیلئے سستے قرضوں، گرین ٹیکسو نومی کی منظوری، شپ بریکنگ کو صنعت کا درجہ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے جس کا اجلاس وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں منعقد ہوا وزارت تجارت کی طرف سے مسابقت اور سٹیل سیکٹر میں برآمدات پر مبنی گروتھ کے حوالے سے رپورٹ پر غور کیا گیا اور اس کی توثیق کی گئی۔ اس کا مقصد پیداواری لاگت کو کم کرنا اور برآمدات کے لیے مسابقت کی قوت کو بڑھانا تھا۔ کمیٹی نے وزارت تجارت کی ایک سمری کی منظوری دی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک اپیل دائر کی جائے گی اور لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے میسرز غنی گلاس لمیٹڈ کو گیس اور آر ایل این جی ٹیرف کی رعایات کو چیلنج کیا جائے گا۔ ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے پاکستان گرین ٹیکسونومی کی منظوری دی گئی۔ اس بارے میں سمری وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ وزارت تعلیم کی ایک سمری پر پاکستان سکل امپیکٹ بورڈ کے لیے ایک ارب روپے کی گارنٹی جاری کرنے کی بھی منظوری دے دی۔ کمیٹی نے رائے دی کے وزارت بتدریج پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کی طرف جائے اور اسی طرح کے اقدامات اسی ماڈل کے تحت کیے جائیں۔ اجلاس میں ہاؤسنگ کے سیکٹر کے لیے رسک شیئرنگ سکیم کے تحت مارک اپ سبسڈی فراہم کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ اس کا مقصد کم لاگت کے گھروں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ کمیٹی نے وزارت ہاؤسنگ کو ہدایت کی کہ ایک مربوط ڈیٹا بیس تیار کی جائے۔ اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار نے ملک کے اندر ویجیٹیبل گھی کی دستیابی اور اس کی قیمتوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ ای سی سی نے وزارت صنعت و پیداوار کی طرف سے اس یقین دہانی کو نوٹ کیا کہ ملک کے اندر ویجٹیبل گھی کے مناسب سٹاک موجود ہیں۔ اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کھانے کے تیل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات صارفین تک فراہم نہیں کیے جا رہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی وزارت کی سمری پر ریڈیو بیس سروسز کے چارجز پر نظر ثانی کی بھی منظوری دی گئی۔ ای سی سی نے ہدایت کی کہ ریڈیو بیس سروس چارجز پر ہر تین سے پانچ سال کے عرصے میں نظر ثانی کی جائے۔ کمیٹی نے آئی ایم ٹی سپیکٹرم کے اجرا کے لیے مشاورتی کمیٹی کی ساخت پر نظر ثانی کے بارے میں سمری کی بھی منظوری دے دی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے شپ بریکنگ اور ریسائیکلنگ کو صنعت کا درجہ دے دیا۔ اس بارے میں وزارت بحری امور نے سمری پیش کی تھی۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ وہ پاور ڈویژن کے ساتھ رابطہ رکھے اور اس کے ساتھ بجلی کے استعمال کے حوالے سے ڈیٹا کو شیئر کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی منظوری کی طرف سے کمیٹی نے اور اس کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔