ای سی سی نے گرین ٹیکسانومی، سستے گھروں کی اسکیم اور صنعتی اصلاحات کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے جمعہ کو ماحولیاتی پائیداری کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر پاکستان کی گرین ٹیکسانومی کی منظوری دے دی۔ یہ تجویز وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس کا مقصد ماحول دوست معاشی سرگرمیوں کی ایک مشترکہ تعریف متعین کرنا اور گرین منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کو آسان بنانا ہے۔
یہ اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا، جس میں صنعتی ترقی، ماحولیاتی پالیسی، ہاؤسنگ، ہنر کی ترقی اور ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے گرین ٹیکسانومی کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے دیرینہ ضرورت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے: ای سی سی اجلاس: سردیوں کے لیے بجلی کا خصوصی پیکج، این ڈی ایم اے کے لیے گرانٹ کی منظوری
ای سی سی نے وزارت تجارت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد اسٹیل سیکٹر کی پیداواری لاگت کم کرنا اور برآمدات کو فروغ دینا ہے۔ کمیٹی نے غنی گلاس لمیٹڈ کو دی گئی گیس و ایل این جی رعایت کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی منظوری بھی دی، یہ رعایت پہلے ہی ختم کی جا چکی ہے۔
ہنر کی ترقی کے لیے حکومت نے پاکستان اسکل امپیکٹ بانڈ (PSIB) کے اجراء کے لیے ایک ارب روپے کی ضمانت کی منظوری دی۔ ہاؤسنگ سیکٹر میں سستے گھروں کے لیے سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم کی منظوری دی گئی اور ایک جامع ڈیٹا بیس بنانے کی ہدایت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: ای سی سی نے ایک لاکھ میٹرک ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کی منظوری دیدی
ویجیٹیبل گھی کی قیمتوں کے معاملے پر کمیٹی نے قیمتوں میں عالمی کمی کا فائدہ عوام تک نہ پہنچنے پر تشویش ظاہر کی اور نگرانی سخت کرنے کی ہدایت کی۔
دیگر فیصلوں میں ریڈیو بیسڈ سروسز چارجز میں رد و بدل، شپ بریکنگ انڈسٹری کی باضابطہ منظوری اور یکم جولائی سے گیس چارجز میں 50 فیصد اضافے کی منظوری شامل ہے، تاکہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقتصادی رابطہ کمیٹی ای سی سی معیشت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقتصادی رابطہ کمیٹی ای سی سی کی منظوری کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔