اتحادی جماعتوں میں کوئی اختلاف نہیں،پیپلزپارٹی اور ن لیگ اسی تنخواہ پر کام کرتیں رہیں گی: حنیف عباسی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
راولپنڈی(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، دونوں اسی تنخواہ پر کام کرتیں رہیں گی، افغانستان سے مذاکرات وزیراعلی کے پی کے کہنے پر نہیں بلکہ حکومت پاکستان کا فیصلہ ہے۔
راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں نئے او پی ڈی بلاک کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ آر آئی سی 13سال پہلے بنا تھا، یہاں سے بیشمار لوگ مستفید ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب او پی ڈی میں روز تین ہزار مریض اور تین ہزار انکے ساتھ آنے آرہے تھے، آر آئی سی میں 40 کروڈ کی لاگت سے نیا او پی ڈی بلاک بن رہا ہے، اس پراجیکٹ کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے فنڈز دئیے ہیں، پچیس کروڑ جاری ہوگے پندرہ کروڑ ابھی جاری ہونے ہیں۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ او پی ڈی کا پہلا مرحلہ اس سال جون میں مکمل کرلیں گے، یہاں ہم ایک ویٹنگ ایریا بھی بنا رہے ہیں۔حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے دن رات ملک کی خدمت کرکے قوم کا اعتماد بحال کیا ہے، بین الاقوامی اشاریے بہتری کی نوید دے رہے ہیں، جو کہتے تھے پاکستان پیسے نہ بھیجیں، ان کی بات کسی نے نہیں بنی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے لئے پاکستان سب چیزوں سے مقدم ہیحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا فائدہ بلوچستان کو دینے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعلی پنجاب دن رات صوبے کی عوام کیلئے کام کررہی ہے۔
ولادیمیر پیوٹن کے مبینہ ’خفیہ بیٹے‘ کی تصویر لیک، روس میں ہلچل مچ گئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: حنیف عباسی او پی ڈی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔