Daily Ausaf:
2026-07-24@09:03:27 GMT

مقبوضہ کشمیر میں ایک اور فالس فلیگ آپریشن

اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT

بھارت میں ہندو توا کا اژدہا اپنے ہی لوگوں کو نگل رہا ہے پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے ۔ اس دہشت گردی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ بدقسمتی سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے اس واقعے کی کئی جہتیں ہیں۔بھارت فالس فلیگ کے حوالے سے نہایت سیاہ تاریخ کا حامل ہے۔ جو کچھ برسوں پہلے چٹی سنگھ پورہ میں سکھوں کے ساتھ ہوا وہی اب پہلگام میں بھارتی سیاحوں کے ساتھ ہوا ہے۔ ماجی میں امریکی صدر بل کنٹن کے دورے کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کی بدتریں صورتحال سے توجہ ٹانے کے لے دہشت گردی کروا کر ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی ناکام کو شش کی اور اب امریکی ناب صدر کی ٓمد کے موقع پر بھارتی سیاحوں کو بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے ۔ اگر حقائق کی رو سے دیکھا جائے تو یہ واقعہ جے ڈی وینس کے دورہ بھارت اور وزیر اعظم نریندر مودی کے مجوزہ دورہ سعودی عرب کے دوران پیش آیا، جو کہ سیاسی طور پر انتہائی حساس لمحات تھے۔ ایسے وقت میں اس قسم کی کارروائیاں پلوامہ حملے جیسے پہلے کے جھوٹے فلیگ آپریشنز کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ یہ حملہ بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے، خصوصا جب خود بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ پر دہشت گردی کے پھیلا سے متعلق امریکی عدالت میں سنگین الزامات کا سامنا ہے۔مزید برآں، بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا جس میں بابا بنارس اور فرنٹل فورس جیسے اکانٹس کی جانب سے واقعے کے فورا بعد چلائی گئی مربوط مہم اس خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ یہ سب کچھ ایک پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق پیش آیا۔افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارتی میڈیا نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بجائے فوری طور پر پاکستان کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے جو قابل تشویش ہے اور دو ایٹمی ممالک کے درمیان اس طرح کی غلط فہمیاں خطے کے امن کیلئے تباہ کن ہوسکتی ہیں۔
بھارت کے غیر ذمہ دار میڈیا کو اتنا بھی ادراک نہیں کہ ایسے واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں، نہ کہ مفروضوں پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جائے۔سب کو یاد ہوگا کہ چٹی سنگھ پورہ کا واقعہ بھی اسی نوعیت کا تھا، جہاں تقریبا 30 سکھوں کا بے دردی سے قتل کیا گیا اور بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کر دیا۔ بعد ازاں ایک سکھ تنظیم کی آزاد تحقیق سے یہ انکشاف ہوا کہ یہ قتل عام بھارتی خفیہ اداروں کا خود ساختہ منصوبہ تھا، جو صدر کلنٹن کے دورہ بھارت کے وقت پیش آیا تھا۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا چہرہ رفتہ رفتہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے، جیسا کہ کلبھوشن جادھو کی گرفتاری سے ظاہر ہوا، جو پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف ریاستی سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی ایک طویل المدتی پالیسی کا حصہ نظر آتی ہے، جسے عالمی برادری کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ بھارت کی مکاریوں کا سب سے بڑا ثبوت پلوامہ حملے کے بعد اس وقت سامنے ٓ آیا جب مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر نے بے جے پی کے سازشانہ کردار کو بے نقاب کیا۔ بھارتی حزب اختلاف اس معاملے کو متعدد بار پارلیمان میں اٹھا چکی ہے کہ محض الیکشن میں جیت کی خاطر مودی سرکار نے اپنے ہی جوانوں کو مروا کر پاکستان دشمنی کا بیانیہ گھڑا۔ پہلگام، مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملہ حسبِ روایت ہندوستانی میڈیا کا من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈہ جاری ہندوستانی میڈیا اور بالخصوص را سے جڑے سوشل میڈیا اکانٹس نے حملے کے فوری بعد پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔ حملے میں مذہب کا استعمال کرتے ہوئے غیرمسلموں کو نشانہ بنانے کا ڈرامہ بھی کیا گیا۔
بھارت روایتی طور پر کسی غیر ملکی سربراہ کے دورے یا اہم موقع پر، فالس فلیگ کا ڈرامہ رچا کر دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے قابو سے باہر سیکورٹی حالات سے ہٹانا چاہتا ہے۔یہ محض اتفاق نہیں کے مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر مبینہ حملہ اس وقت کیا گیا جب امریکی نائب صدر بھی ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی مودی حلومت سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے متعدد بار فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچاتی رہی ہے۔بھارتی حکومت اور بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں اپنی ظالمانہ پالیسیوں کی بدولت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلگام میں سیاحوں پر بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم مسلم اکثریتی علاقے میں 1989 ء سے مسلح بغاوت جاری ہے، جس میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلی عمر عبداللہ نے ردعمل دیا کہ فائرنگ کا واقعہ کئی سال بعد شہریوں پر بڑا حملہ ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ جموں وکشمیر کی ڈیموگرافی کی تبدیلی کے بھارتی منصوبے اور مسلم دشمن بھارتی قانون وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف 25اپریل کو مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال ہوگی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیریوں سے متنازعہ وقف ترمیمی ایکٹ اور مقبوضہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجرا کے خلاف جمعہ کو مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی پارلیمنٹ سے مسلم مخالف بل کی منظوری اور مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجرا پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دو کشمیریوں کی غیر قانونی قید کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے قابض انتظامیہ کو ان کی فوری رہائی کی ہدایت کی ہے۔ ادھر رام بن کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سرینگر جموں ہائی وے بند ہونے کے بعد سیاحوں اور مسافروں سمیت ہزاروں افراد کو شدید موسمی حالات کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا اور را سے جڑے سوشل میڈیا اکانٹس نے پاکستان کیخلاف زیر اگلنا شروع کر دیا۔ بھارت ماضی میں بھی پاکستان پر ایسے جھوٹے الزام لگاتا رہا ہے۔سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ فالس فلیگ کا ڈرامہ رچانا بھارتی روایت ہے۔ جب کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو بجائے تحققات کے بھارت پاکستان پر الزام ڈال دیتا ہے۔ پاکستان پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے بھارت اس واقعہ کی مکمل چھان بین کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ایجنسیاں دہشت گردی کے واقعات میں خود ملوث ہوتی ہیں۔ بھارت پاکستان کے علاوہ کینیڈا اور امریکہ سمیت مختلف ممالک میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہے۔ کلبھوشن کا بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف اس بات کا واضح ثبوت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان کے میں سیاحوں پاکستان پر فالس فلیگ کا ڈرامہ بھارت کی کے خلاف

پڑھیں:

ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے

بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔

سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔

سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے

اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔

انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔

اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے

سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔

سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔

ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟

انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔

سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا