اسلام آباد( نیوزڈیسک)بھارتی ایئر لائنز کیلئے پاکستانی فضائی حدود بند کرنے کے بعد بھارت کوبڑے پیمانے پر بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ائرلائنز کو مختلف ممالک کی پروازوں کیلئے یومیہ کروڑوں کے اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا

بھارت سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنیوالی دو طرفہ پروازوں کی یومیہ تعداد 70 سے 80 جبکہ بعض اوقات 100 سے تجاوز کرجاتی ہے۔بھارت سے پاکستانی فضائی حدود کے ذریعے یورپ، امریکہ، مڈل ایسٹ اور سینٹرل ایشیا کیلئے دو طرفہ پروازیں آپریٹ کی جاتی ہیں

پاکستانی فضائی حدود کو استعمال کرنے والی بھارتی ائرلائنز میں ائر انڈیا، ائر انڈیا ایکسپریس، اسپائس جیٹ، انڈیگو ائر اوت آکاسا ائر شامل ہیں ، بھارت کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے والوں میں خصوصی اور کارگو پروازیں بھی شامل ہیں ۔

بھارتی ائر لائنز کے لئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے پروازوں کو 2 سے 3 گھنٹوں کا اضافی وقت درکار ہو گا،بندش سے بھارتی پروازوں کو دو متبادل روٹس استعمال کرنا ہوں گے ، ایک روٹ میں ممبئی اور دہلی سے سمندر کے اور پرواز کرتے مسقط اور دوحہ کا روٹ استعمال کرنا ہوگا

دوسرے روٹ کے لئے بھارتی پروازوں کو چین کی فضائی حدود پر انحصار کرنا ہو گا، بھاری پروازوں کو ان متبادل روٹس کے استعمال سے اضافی فیول کی مد میں کروڑوِں روپے روازنہ کے اضافی اخراجات کا سامنا ہو گا۔پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے والی پروازیں ممبئی، آحمد آباد، لکھنو، دہلی، گوا اور دیگر شہروں سے آپریٹ کی جاتی ہیں۔
مودی جی ڈرامہ بند کرو، اگر آپ انصاف نہیں دے سکتے تو کیاپاکستان سے مدد لیں؟ بھارتی فوجی کی دھائی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستانی فضائی حدود پروازوں کو کا سامنا

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن