Daily Ausaf:
2026-06-03@06:27:54 GMT

مقبوضہ کشمیر میں چھوٹا افغانستان

اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT

مقبوضہ جموں و کشمیر کا صحت افزا مقام پہلگام، جو سیاحوں کے لئے جنت تصور کیا جاتا تھا 22 اپریل 2025 ء کی دوپہر 2بج کر 50منٹ پر اچانک جہنم بن گیا، 6 سے 7 مسلح افراد نے پہلگا م کے علاقے بیسرن میں ایک اونچے پہاڑی میدان میں موجود ٹورسٹس کو نشانہ بنایا، اس حملے میں 26 سیاح مارے گئے اور 15 زخمی ہو ئے۔ ابتدا میں کہا گیا کہ مرنے والوں میں ایک اسرائیلی اور ایک اطالوی بھی شامل تھا، لیکن بعد میں یہ دعوی سامنے آیا کہ ہلاک شدگان میں ایک نیپالی اور باقی تمام ہندوستانی ہیں۔ بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ یہ حملہ لشکر طیبہ کے نئے گروپ دی ریزسٹنس فرنٹ نے کیا ہے، جبکہ کچھ ہندوستانی اخبارات کا دعوی ہے کہ حملہ آور جنگجو دی ریزسٹنس فرنٹ کے نئے ونگ ’’فالکن اسکواڈ‘‘یعنی عقابی غول کے رکن تھے۔ جو قابض بھارتی فوج کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے۔ لشکر طیبہ کے ڈپٹی کمانڈر سیف اللہ قصوری کو اس حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جا رہا ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پیر پنجال میں عسکریت پسندوں کی اس ’’سلطنت‘‘کا بے تاج بادشاہ قرار دیا جاتا ہے، کہ جسے ایک چھوٹا افغانستان بھی کہتے ہیں، جبکہ کچھ بھارتی ذرائع یہ دعوی کر رہے ہیں کہ سیف اللہ قصوری آج کل پیر پنجال میں نہیں کیونکہ وہ کسی چھلاوے کی طرح اپنی اس محفوظ جنت سے اچانک غائب ہو جاتا ہے اور اس چھوٹے افغانستان سے باہر نکل کر اکثر نیپال ، برما، بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان آتا جاتا رہتا ہے۔
بھارتی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق پیر پنجال میں مجموعی طور پر ڈیڑھ سو سے زائد جنگجو موجود ہیں جن میں سے 65غیر ملکی اور باقی لوکل کشمیری ہیں، لیکن مقامی ذرائع کے مطابق پیر پنجال میں افغان اسٹائل گوریلا جنگ میں شریک عسکریت پسندوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے، جن میں پانچ سے سات سو کشمیری نوجوان ہیں جن کی دو تہائی تعداد مقامی بکروال اور گوجر قبیلوں سے بھرتی کیئے جانے والے نئے ریکروٹس پر مشتمل ہے، جبکہ باقی مقبوضہ جموں و کشمیر کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے پرانے کشمیری مجاہدین ہیں، غیر ملکی جنگجو ڈیڑھ سے دو سو کے قریب بتائے جاتے ہیں۔ پہلگام میں خون کی جو ہولی کھیلی گئی اسے بہت سے مبصرین ایک فالس فلیگ آپریشن بھی قرار دے رہے ہیں کہ جسے خود قابض بھارتی فوج اور مودی سرکار کے پاکستان پر دبائو بڑھانے کے ایجنڈے سے جوڑا جا رہا ہے، بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد چھ یا سات تھی، جو پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے سے نکل کر آئے اور لرزہ خیز کارروائی کے بعد وہیں واپس جا کر روپوش ہو گئے۔ ہندوستانی میڈیا ان مبینہ حملہ آوروں کے کچھ نام بھی لے رہا ہے، تین مقامی جنگجووں میں عادل گوری اننت ناگ، آصف شیخ سو پور جبکہ ابو موسی راولاکوٹ کا رہائشی بتایا جا رہا ہے، غیر ملکیوں میں سلیمان شاہ عرف یونس، آصف فوجی عرف موسی اور ابوطلحہ شامل بتائے جاتے ہیں، لیکن یہ سب مبینہ دعوے ہیں، اصل حقیقت تاحال کسی کے علم میں نہیں۔ پیر پنجال مقبوضہ جموں و کشمیر کے جنوبی سرے سے شروع ہو کر آزاد کشمیر تک پھیلا ہوا وہ پہاڑی سلسلہ ہے، جہاں کشمیری حریت پسندوں نے افغان اسٹائل گوریلا وار شروع کرتے ہوئے تین چار سال سے نہ صرف اپنے ہائیڈ آٹس قائم کر رکھے ہیں بلکہ کئی نوگو ایریاز بھی بنا لئے ہیں۔ جہاں بھارتی فوج داخل نہیں ہو سکتی۔ یہ سلسلہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد مزید خطرناک ہو گیا۔ کیونکہ اس کے بعد جہادی نیٹ ورکس کو نئی زندگی ملی اور افغانستان میں طویل عرصے تک جاری گوریلا جنگ میں تربیت یافتہ عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو اپنی اگلی پراکسی وار کے لئے منتخب کر لیا۔
امریکہ جو جدید ترین اسلحہ افغانستان چھوڑ کر گیا تھا اس کا ایک بڑا حصہ اس چھوٹے افغانستان میں بھی پہنچ چکا ہے۔ پیر پنجال میں اس وقت کئی عسکریت پسند تنظیمیں سرگرم ہیں، جن میں لشکر طیبہ، جیش محمد، حزب المجاہدین، البدر، دی ریزسٹنس فرنٹ و دیگر شامل ہیں، مقامی کشمیری نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ کچھ پاکستانی ، افغان، چیچن، تاجک اور ازبک غیر ملکی جنگجو بھی پیر پنجال میں مورچہ زن بتائے جاتے ہیں۔ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش، برما اور چین کے راستے جعلی کرنسی، اسلحہ اور منشیات کی جو اسمگلنگ ہوتی ہے، یہ جنگجو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے مقامی سہولت کاروں کے ذریعے پیر پنجال میں قائم اس چھوٹے افغانستان میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ نیپال، برما اور چین کے دشوار گزار جنگلات اور پہاڑی سلسلے وہ سرحدی راستے ہیں جو اس گھاتک نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں ناگا باغی، منی پوری علیحدگی پسند، اور آسام کے عسکریت پسند برسوں سے متحرک ہیں۔ ان گروہوں کو بعض ہمسایہ ممالک کی خاموش سرپرستی بھی حاصل ہے۔
دوسری جانب، نکسلائٹ ما باغی، بھارت کی کئی وسطیٰ اور جنوبی ریاستوں میں اپنے نوگو ایریاز قائم کئے بیٹھے ہیں، جہاں حکومت کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان ریاستوں میں چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اوڈیشہ، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، تلنگانہ، بہار اور مدھیہ پردیش شامل ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کا علاقہ پیر پنجال اب محض ایک پہاڑی سلسلہ نہیں، بلکہ ایک نئی جنگ کا سلگتا ہوا محاذ بن چکا ہے۔ مودی سرکار کے لئے پاکستان ایک آسان ہدف ہے اس لئے پہلگام دہشت گردی یا فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں اس نے پاکستان پر بڑا معاشی حملہ کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد معطل کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ تلخ حقیقت خود بھارت کے بھی علم میں ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد تو خود پاکستان خوفناک دہشت گردی کا شکار ہے کہ جس میں افغانستان میں چھوڑا گیا جدید ترین امریکی اسلحہ اور افغانستان میں تربیت یافتہ جنگجو استعمال ہو رہے ہیں، مودی سرکار نہ تو افغانستان، چین، نیپال، برما اور بنگلہ دیش کا نام لیتی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف ویسا شدید ردعمل ظاہر کرتی ہے جس کا پاکستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ عسکریت پسندوں کیلئے جدید اسلحہ اور نئے جنگجو ان ممالک کے راستے بھی داخل ہو رہے ہیں، صاف ظاہر ہے کہ ’’وچوں گل کوئی ہور اے‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: عسکریت پسندوں کی افغانستان میں پیر پنجال میں جا رہا ہے جاتے ہیں رہے ہیں کے بعد

پڑھیں:

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں

متعلقہ مضامین

  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی