باہمی رضامندی کے بغیر دریائے سندھ سے کوئی نہر نہیں بنے گی، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
بھارت نے یکطرفہ معاہدہ ختم کیا، دریائے سندھ ہمارا ہے ، اس میں ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون
دنیا کوپیغام دیں گے سندھ پر ڈاکا نامنظور، ہم اس دریا کے وارث اورمحافظ ہیں، سکھر میںخطاب
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں باہمی رضامندی کے بغیر دریائے سندھ سے کوئی نہر نہیں بنے گی۔سکھر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ بات ہو چکی ہے کہ یہ حکومت پاکستان کی پالیسی ہے کہ آپ کی مرضی کے بغیر کوئی نئی کینالز نہیں بنیں گی۔انہوں نے کہا کہ یہ پُرامن جمہوری جدوجہد کی کامیابی ہے ، مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں باہمی رضامندی کے بغیر دریائے سندھ سے کوئی نہر نہیں بنے گی۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ آپ سب کومبارکبادپیش کرتاہوں، پیپلزپارٹی اورن لیگ کے درمیان ایک معاہدہ ہواہے ، معاہدے پر دونوں جماعتوں کے دستخط موجود ہیں، یہ ممکن نہیں ہوتا اگر پیپلزپارٹی کے جیالے میدان میں نہ ہوتے ۔بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ 2مئی کو اجلاس ہے اس مسئلہ کوہم ختم کریں گے ، یکم مئی کو میرپور خاص میں جلسہ کریں گے ، وعدہ کیا تھا ہم سندھ کو بچائیں گے ، سندھ کو خطرات سے بچا دیا ہے ، یہ آپ کی کامیابی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے سندھ پرحملہ ہوا ہے ، مقبوضہ کشمیرمیں دہشتگردی کاواقعہ ہوا، مقبوضہ کشمیرمیں دہشتگردی کے واقعہ کی ہم نے مذمت کی، مودی نے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگائے ہیں، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کرکے یکطرفہ فیصلہ کیا۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ دریائے سندھ ہمارا ہے اور اس میں ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون، پاکستان کے عوام بہادرلوگ ہیں ڈٹ کرمقابلہ کریں گے ، دنیا کوپیغام دیں گے سندھ پر ڈاکا نامنظور، ہم اس دریا کے وارث اورمحافظ ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 4 صوبے 4بھائی ہیں مودی کومنہ توڑجواب دیں گے ، ہماری جدوجہد جاری رہے گی جب تک بھارت فیصلہ واپس نہیں لیتا، ہم وزیراعظم شہبازشریف کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، مشکل وقت میں وفاق کی آوازبنیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پورے پاکستان کو ایک ہو کر ان کامقابلہ کرنا پڑے گا، مودی کی کوششیں ناکام ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :