اسلام آباد:

وفاقی وزیراطلاعات عطاللہ تارڑ نے پہلگام واقعے کی آڑ میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف اعلانات پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ فالس فلیگ آپریشن کی شرم ناک داستان سے بھارت کی عالمی سطح پر سبکی ہو رہی ہے، بھارت اب پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی نے بھارت کو بھرپور جواب دیا۔

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے، بھارتی بیان پر پاکستان نے عملی طور پر اقدامات کیے اور پاکستان کی فضائی حدود کو بھارتی طیاروں کے لیے بند کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آج بھارت کے تمام اخبارات میں ہیڈ لائنز ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے، بھارت سے تجارت مکمل طور پر بند ہے، کسی تیسرے ملک کے ذریعے بھی بھارت سے تجارت نہیں ہو سکتی، بھارت کے لیے پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے بھارت میں فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں متعدد پروازیں منسوخ یا تبدیل ہوئی ہیں اور کچھ لمبے روٹس سے چل رہی ہیں۔

وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد افواج پاکستان مکمل طور پر پرعزم ہیں، پاکستان کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان پرامن ملک ہے مگر کسی مس ایڈونچر کا بھرپور جواب دینا جانتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فالس فلیگ آپریشن کی شرم ناک داستان سے بھارت کی عالمی سطح پر سبکی ہو رہی ہے، پاکستان کو بیانیہ کی جنگ میں سبقت حاصل ہے، پاکستانی ٹی وی چینلز، صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کا مشکور ہوں کہ انہوں نے یک زبان ہو کر بھارتی ایجنڈے کو بے نقاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے سینئر صحافی سوشل میڈیا پر رونا رو رہے ہیں کہ بھارت کا بیانیہ ناکام ہو چکا ہے، بھارتی میڈیا اور بھارتی صحافیوں نے فالس فلیگ آپریشن کے حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلائیں اور جب پاکستان نے جواب دیا تو اب انہیں چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بھارتی بیانیہ پیچھے رہ گیا ہے، بھارت میں یہ رونا رویا جا رہا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا، بوکھلاہٹ میں بھارت نے ایک غلطی پر دوسری غلطی کی۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کی ایف آئی آر عجلت میں درج کی گئی، ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ ضلع اننت ناگ، پہلگام پولیس اسٹیشن، واقعہ دن ایک بج کر 50 منٹ پر شروع ہوا اور 2 بج کر 20 منٹ پر ختم ہوا اور ایف آئی آر 10 منٹ بعد 2 بج کر 30 منٹ پر درج کر دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ عقل کے اندھوں کو بھی پتا ہے کہ اس قسم کے واقعات کی تحقیقات ہوتی ہیں، موقع کا جائزہ لیا جاتا ہے اور قانونی لوازمات پورے کیے جاتے ہیں، شواہد دیکھے جاتے ہیں، یہ کیسا واقعہ ہے جس کی ایف آئی آر وقوع کے 10 منٹ بعد درج کر دی جائے۔

بھارتی حکام کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس طرز کی ایف آئی آر مقامی پولیس اسٹیشنوں میں معمولی جھگڑوں پر درج کی جاتی ہیں جبکہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کو بین الاقوامی سطح کا معاملہ بنانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر منظر عام پر آنے سے انڈیا کا پورا پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا ہے، انڈیا کا جھوٹ ایک بار پھر سامنے آ چکا ہے، پاکستان کو ایک مرتبہ پھر بیانیہ کی جنگ میں سبقت حاصل ہوئی ہے، بھارت بری طرح ایکسپوز ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بھارت نے عجلت میں قانون کو دیکھے بغیر یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا بیان دیا، پاکستان دو ٹوک کہہ چکا ہے کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے، پاکستان اس مسئلے پر بھرپور طریقے سے جواب دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اب پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے، بھارت نے بوکھلاہٹ میں اب جیلوں میں پاکستانی قیدیوں اور مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کا ان کاﺅنٹر کرنا شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانڈی پورہ میں الطاف لالی اور اڑی سیکٹر میں محمد فاروق اور محمد دین کو شہید کیا گیا، بھارت فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں لوگوں کو گھروں سے اٹھا کر شہید کر رہا ہے۔

پہلگام واقعے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے آ چکا ہے، فالس انکاﺅنٹر کرنے سے بھارت کی بوکھلاہٹ مزید سامنے آ چکی ہے، بھارت پہلے بھی ایسے کام کرتا رہا ہے، بھارت نے پہلے پلوامہ واقعے کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی اور اس مرتبہ انہوں نے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی کوشش کی جو بری طرح ناکام ہوئی۔

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت مت بھولے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے، بھارت دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے مظلوم بننے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت کے خلاف پاکستان میں دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف 80 ہزار جانوں کی قربانیاں دی ہیں، ہم دہشت گردی کے خلاف منظم اور متحد ہیں، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں سے بوکھلا کر بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کیا، آپ کی بوکھلاہٹ اور گبھراہٹ سب کے سامنے آ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی بوکھلاہٹ کا اندازہ لگائیں کہ آج مدھیا پردیش میں ان کی اپنی فضائیہ نے غلطی یا تکنیکی خرابی کی وجہ سے اپنی ہی آبادی کو نشانہ بنایا، ان کی اہلیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اتنے اہل ہیں کہ اپنی ہی آبادی کو نشانہ بنا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت زبوں حالی کا شکار ہے، بھارت اپنے اس پائلٹ کو نہ بھولے جسے پاکستان میں چائے کا کپ پلا کر واپس بھیجا گیا تھا، بھارت کے مذموم مقاصد بری طرح ناکام ہو چکے ہیں اور ان کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ بیانیہ کی جنگ میں پاکستان کو سبقت حاصل ہے، پاکستان ہر شعبے میں سبقت کی صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان کی قوم متحد ہے، آپ کے شہری تو آپ پر الزامات لگا رہے ہیں، پاکستان پوری طرح متحد اور یک زبان کھڑا ہے، بھارت کے مذموم مقاصد کو پوری طرح ایکسپوز کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کی دہشت گردی کے خلاف ان کا کہنا تھا کہ عطااللہ تارڑ نے نے کہا کہ بھارت انہوں نے کہا کہ بوکھلاہٹ کا پاکستان نے پاکستان کی کہ پاکستان ایف آئی آر بھارت نے بھارت کی بھارت کے سے بھارت کا شکار کی کوشش رہا ہے کے لیے چکا ہے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس