عدالتی تاریخ میں بڑا واقعہ ، سابق چیف جسٹس کوگرفتار کرلیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
بنگلہ دیش کی عدالتی تاریخ میں بڑا واقعہ سامنے آ گیا، سابق چیف جسٹس اے بی ایم خیرالحق کو قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا ۔
پولیس نے سابق چیف جسٹس اے بی ایم خیرالحق کو ان کےگھر سےگرفتارکرنے کے بعد میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جس کے بعد ڈھاکا کی عدالت نے سابق چیف جسٹس خیرالحق کو جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
اے بی ایم خیرالحق گزشتہ سال طلبہ تحریک میں ایک نوجوان کے قتل میں مقدمے میں نامزد ہیں۔۔
ان پر مقدمہ بنگلادیش نیشنل پارٹی کے رہنما نے درج کرایا، اس مقدمے میں سابق چیف جسٹس خیرالحق اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ سمیت 465 افراد نامزد ہیں۔
کیس کی حساس نوعیت اور سابق اعلیٰ عدالتی عہدے دار کی گرفتاری کے باعث بنگلہ دیش میں قانونی و سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
یاد رہےکہ سابق چیف جسٹس بنگلادیش خیرالحق کے خلاف بغاوت اور فراڈ سمیت 3 مقدمات درج ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سابق چیف جسٹس
پڑھیں:
اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
کراچی، اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے اداکار منیب بٹ کو تفتیش کے بعد بے گناہ قرار دیتے ہوئے چالان میں ان کے خلاف الزامات برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد منیب بٹ کے وکیل نے عدالت سے ضمانت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کر دی۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں منیب بٹ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد چالان میں ان کے مؤکل کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا اب ضمانت کی درخواست برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں، اس لیے اسے واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نےمحمد متعال نامی شہری کو اغوا کر کے ان سے24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا تھا۔
تحقیقات کے دوران منیب بٹ پر یہ الزام سامنے آیا تھا کہ انہوں نے مرکزی ملزمان کو مری میں رہائش فراہم کرنے میں معاونت کی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تفصیلی تفتیش اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ان کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا، جس کے باعث انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مقدمے میں نامزد ایک پولیس اہلکارغالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں، جن کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو مبینہ طور پر اغوا کیا، ان سے کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان حاصل کیا اور بعد ازاں انہیںکورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔
عدالت نے وکیل کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت متعلقہ قانونی کارروائی کے لیے ملتوی کر دی۔