پاکستان کال سینٹر فراڈ: 71 غیر ملکیوں سمیت 149 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 جولائی 2025ء) پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ''چھاپے کے دوران، ایک بڑے کال سینٹر کا انکشاف ہوا، جو پونزی اسکیموں اور سرمایہ کاری فراڈ میں ملوث تھا۔‘‘
پاکستان میں بڑھتے سائبر کرائمز، زیادہ شرح مالیاتی جرائم کی
گھر بیٹھے آن لائن ہزاروں روپے کمانے کا فراڈ
ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا، ''اس جعلی نیٹ ورک کے ذریعے عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے اور غیر قانونی طور پر بھاری رقوم جمع کی جا رہی ہیں۔
‘‘اس ایجنسی کے مطابق فیصل آباد شہر میں کام کرنے والے اس نیٹ ورک کے بارے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی۔
(جاری ہے)
نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چھاپہ شہر کے پاور گرڈ کے سابق سربراہ تحسین اعوان کی رہائش گاہ پر مارا گیا، تاہم انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔
گرفتار ہونے والوں میں 78 پاکستانی اور 48 چینی شہریوں کے علاوہ نائیجیریا، فلپائن، سری لنکا، بنگلہ دیش، زمبابوے اور میانمار کے شہری شامل ہیں۔
گرفتار شدگان میں 18 خواتین بھی شامل ہیں۔پولیس رپورٹ کے مطابق ان فراڈ اسکیموں سے متاثر ہونے والے لوگوں ان کی سرمایہ کاری میں سے کچھ رقم واپس ملے گی، جس کے بعد بقیہ رقوم کی واپسی کے لیے بھی پیشرفت ہو گی۔
بیان میں کہا گیا ہے، ''ملزمان واٹس ایپ گروپ چلاتے تھے جہاں وہ مختلف ٹک ٹاک اور یوٹیوب چینلز کو سبسکرائب کرنے جیسے چھوٹے سرمایہ کاری کے کام سونپ کر عام لوگوں کو لالچ دیتے تھے۔‘‘
’’بعد میں، انہیں مزید آن لائن کاموں کے لیے ٹیلی گرام لنکس پر منتقل کر دیا جاتا، جس کے لیے زیادہ بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی تھی۔‘‘
ادارت: شکور رحیم
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سرمایہ کاری
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔