1912 میں ڈوبنے والے مشہور ٹائٹینک جہاز کے مسافر کی طرف سے لکھے گئے خط کو 4 لاکھ ڈالرز میں نیلام کردیا گیا ہے۔

یہ خط 10 اپریل 1912 کو جہاز کی نیویارک روانگی کے وقت آرکیبالڈ گریسی نامی فرسٹ کلاس مسافر کی طرف سے ایک جاننے والے کو لکھا گیا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا یہ ایک اچھا جہاز ہے تاہم میں اس کے بارے میں رائے قائم کرنے میں سفر کے اختتام تک انتظار کروں گا۔

تاہم روانگی کے 4 دن بعد جب جہاز آئس برگ سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہوگیا تو گریسی نامی اس مسافر نے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگائی اور ایک الٹے ہوئے لائف بوٹ پر چڑھ گیا۔ انہیں بعد میں ریسکیو کیا گیا اور وہ معجزاتی طور پر زندہ بچ گئے، اس حادثے میں 1500 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹائٹینک حادثہ: آخری لمحات میں کیا ہوا تھا، اصل صورتحال کا سراغ لگ گیا

لیکن کئی گھنٹوں تک یخ بستہ سمندر میں رہنے میں کے بعد وہ ہائپو تھرمیا کا شکار ہوگئے تھے جس کی وجہ سے کچھ ہی مہنیوں کے بعد ان کی موت واقع ہوئی۔

اب اس واقعے کے سو سال سے بھی زیادہ گزرنے کے بعد گریسی کے اس خط کو 4 لاکھ امریکی ڈالر میں نیلامی کے لیے پیش کیا گیا جسے امریکا کے ایک کالکٹر نے خریدا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

titanic ٹائٹینک خط نیلامی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹائٹینک نیلامی

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں