ایران: بندر عباس پورٹ پر دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 25 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
ایران: بندر عباس پورٹ پر دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 25 ہوگئی WhatsAppFacebookTwitter 0 27 April, 2025 سب نیوز
تہران: ایران کی رجائی بندرگاہ پر ہونے والے زوردار دھماکے میں مرنے والے افراد کی تعداد 25 ہوگئی جب کہ گزشتہ روز خوفناک دھماکے میں 750 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔
عالمی میڈیا کے مطابق یہ خوفناک دھماکا جنوبی ایران کے شہر بندر عباس کی شہید رجائی بندرگاہ سے منسلک دفتر میں ہوا۔
دھماکے کے بعد بندرگاہ کے ایک حصے میں آگ بھڑک اُٹھی۔ جائے وقوعہ پر فائر بریگیڈ کی گاڑیوں اور ایمبولینسوں کو جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
امدادی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔ متضاد اطلاعات کے مطابق دھماکے میں زخمیوں کی تعداد 750 سے زائد ہوگئی۔
ابتدائی طور پر 4 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی جو اب بڑھ کر 25 ہو گئی ہے تاہم ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ کئی کلومیٹر دور واقع عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے اور متعدد علاقوں میں زلزلے جیسے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلوچستان کا نوجوان چنائی کے ہسپتال میں چل بسا، بھارت کا میت دینے سے انکار بلوچستان کا نوجوان چنائی کے ہسپتال میں چل بسا، بھارت کا میت دینے سے انکار پہلگام فالس فلیگ؛ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن پر حملے کی بھارتی کوشش ناکام دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے کیخلاف وکلا کے دھرنے، گڈز ٹرانسپورٹ بند بھارت نے جارحیت کی تو قوم کا ہر فرد سپاہی بن کر لڑےگا، مولانا فضل الرحمان بھارتی فوج کا کسانوں کو 48 گھنٹے میں سرحدوں پر موجود کھیت خالی کرنے کا حکم پہلگام واقعے پر بھارت کی حقائق چھپانے کی ناکام کوششCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دھماکے میں کی تعداد
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔