خاتون افسر زرغونہ ترین کیخلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، صوبائی مشیر مینا مجید
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
اپنے بیان میں مینا مجید نے کہا کہ اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو وہ قانونی راستہ اختیار کرے، نہ کہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے معزز خواتین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کی صوبائی مشیر مینا مجید نے کوئٹہ کی خاتون پولیس افسر زرغونہ ترین کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ و دیگر پر تشدد کے واقعہ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرغونہ ترین کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ افسران قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ اگر کسی کو شکایت ہے تو قانونی راستہ اپنائے۔ اپنے جاری بیان میں مینا مجید نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر زرغونہ ترین کے خلاف جاری مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک بہادر خاتون افسر کے خلاف گالم گلوچ، دھمکیوں اور کردار کشی کی مہم انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بعض خودساختہ انسانی حقوق کے علمبردار، خصوصاً بیرون ملک بیٹھے افراد، بغیر کسی ثبوت اور حقائق کے زرغونہ ترین کی کردار کشی میں مصروف ہیں، جو کہ ایک انتہائی شرمناک عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک عورت کی مبینہ توہین کے بدلے دوسری عورت کی تذلیل کرنا سراسر غیر اخلاقی اور قابل مذمت ہے۔ انسانی حقوق کے اصولوں کا پرچار کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ خود بھی خواتین کے احترام کا عملی مظاہرہ کریں، نہ کہ نفرت انگیز مہمات کا سہارا لیں۔ انکا کہنا تھا کہ زرغونہ ترین سمیت بلوچستان کی ہر عورت قابل احترام ہے۔ پولیس افسران ریاست کے قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور ان سے ذاتی غلامی کی توقع رکھنا نہ صرف توہین آمیز ہے بلکہ ادارہ جاتی ساکھ کے خلاف بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو وہ قانونی راستہ اختیار کرے، نہ کہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے معزز خواتین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ مینا مجید بلوچ نے زرغونہ ترین اور دیگر خواتین افسران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان خواتین کے وقار اور عزت کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔