اداکارہ دیا مرزا کی زندگی کے کئی پہلو عوام کی نظر سے اوجھل رہے ہیں جن میں ان کا خاندانی پس منظر اور ذاتی جدوجہد شامل ہیں۔

اداکارہ دیا مرزا نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ان کا اصل نام ‘دیا ہینڈرچ’ تھا جو ان کے جرمن نژاد والد فرینک ہینڈرچ سے منسوب تھا۔ ان کی والدہ، دیپا، بنگالی نژاد انٹیریئر ڈیزائنر ہیں۔ دیا کے والدین کی علیحدگی کے بعد ان کی والدہ نے حیدرآبادی مسلمان احمد مرزا سے شادی کی جنہوں نے دیا کو اپنی بیٹی کی طرح پالا۔

دیا نے بتایا کہ نو سال کی عمر میں اپنے سگے والد کے انتقال کے بعد ان کے سوتیلے والد احمد مرزا نے ان کی زندگی میں والد کا کردار ادا کیا۔ اسی لیے جب انہوں نے مس انڈیا مقابلے میں حصہ لیا تو اپنے سوتیلے والد کے نام ‘مرزا’ کو اپنایا۔

دیا مرزا نے 2001 میں فلم ‘رہنا ہے تیرے دل میں’ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا اور اس کے بعد متعدد فلموں میں اداکاری کی۔ ان کی ذاتی زندگی میں بھی کئی اتار چڑھاؤ آئے، جن میں 2019 میں اپنے شوہر ساحل سنگھا سے علیحدگی شامل ہے۔ تاہم، انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔

دیا مرزا کی کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح ایک شخص اپنے خاندانی پس منظر اور ذاتی تجربات کو اپناتے ہوئے اپنی شناخت بناتا ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دیا مرزا

پڑھیں:

صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

(جاری ہے)

منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود