کیا واقعی پاکستان آرمی میں بڑی تعداد میں لوگوں نے استعفے دینا شروع کردیئے ہیں؟ حقیقت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
اسلام آباد (غلام نبی سے) سوشل میڈیا پر کچھ ایسے سکرین شاٹ گردش کررہے ہیں جن میں یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کی گئی کہ پاکستان آرمی میں لوگوں نے بڑی تعداد میں استعفے دینا شروع کردیئے ہیں لیکن دراصل یہ بھی بھارتیوں کی ایک بھونڈی اور لغو کوشش ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
تفصیل کے مطابق سوشل میڈیا پر کچھ ایسے سکرین شاٹ شیئر ہورہے ہیں جن سے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے کہ اہلکار مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونیوالے واقعے کے بعد بھارت کے ساتھ ممکنہ جنگ سے خوفزدہ ہیں اور اس سلسلے میں اپنے استعفے دے رہے ہیں لیکن دراصل یہ بھارتیوں کی ہی کارستانی ہے جو ہندی اور اردو میں فرق ہی سمجھ نہیں پائے اور جلد ہی "پکڑے " گئے۔
جسٹس بابر ستار کا عبوری آرڈر قائم مقام چیف جسٹس کے ڈویژن بینچ سے معطل ہونے پر نیا تنازع سامنے آگیا
انہیں سکرین شاٹس کا سہارا لے کر بھارت کے کئی نامی گرامی اکاؤنٹس سے بھی ری شیئر کرتے ہوئے اپنا بھاشن دینے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوئی لیکن یہ سمجھ پائے کہ یہ جعلی سکرین شاٹ ہیں۔
ایکس (سابق ٹوئٹر) سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھارتی اکاونٹس سے بڑی تعداد میں یہ جعلی لیٹر شیئر کیا جارہاہے لیکن بے چارے، یہ سمجھ نہیں پائے کہ پاکستان کی آفیشل لینگوئج ہندی نہیں بلکہ اردو ہے اور خط وکتابت کے لیے انگریزی بھی استعمال ہوتی ہے ، جعلی لیٹر میں واضح طور پر "پاکستان جندہ باد" لکھا دیکھا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی پاکستانی لکھتا تو یقیناًوہ "پاکستان زندہ باد" لکھتا۔
ملک بھر میں آج بھی ہیٹ ویو، درجہ حرارت معمول سے 7 ڈگری تک زائد رہنے کی پیشگوئی
اسی طرح اب ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل فیصل محمود نہیں بلکہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف ہیں، یہ بنیادی غلطیاں ہی ان لیٹرز کے جعلی ہونے کی تصدیق کے لیے کافی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔