کینیڈا کے پارلیمانی انتخابات میں لبرل پارٹی کو برتری حاصل
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
کینیڈا کے پارلیمانی انتخابات میں لبرل پارٹی کو برتری حاصل WhatsAppFacebookTwitter 0 29 April, 2025 سب نیوز
کینیڈا میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والے عام انتخابات کی ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے اور ابتدائی نتائج کے مطابق لبرل پارٹی کو برتری حاصل ہے۔
پیر کے روز ملک بھر میں ووٹنگ کا عمل صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک جاری رہا جس میں شہریوں نے بھرپور طریقے سے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔
انتخابات میں لبرل پارٹی کے رہنما اور موجودہ وزیر اعظم مارک کارنی اور کنزرویٹو پارٹی کے پیئر پولی ایو کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع کیا جارہا تھا۔
پارلیمنٹ کے 343 رکنی ایوان میں اکثریت کے لیے کسی بھی پارٹی کو کم از کم 172 نشستیں درکار ہیں۔ ابھی تک کے موصولہ غیر حتمی نتائج کے مطابق لبرل پارٹی کے 114 امیدوار کامیاب ہو چکے ہیں، جب کہ 48 نشستوں پر انھیں سبقت حاصل ہے۔
دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کے 106 امیدوار کامیابی حاصل کر چکے ہیں اور 43 حلقوں میں وہ آگے ہیں۔
اس کے علاوہ Bloc Québécois کے 19 اور این ڈی پی کے 2 امیدوار بھی اب تک کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔
سی بی سی اور سی ٹی وی نیوز سمیت کئی معتبر ذرائع نے لبرل پارٹی کی ممکنہ جیت کی پیش گوئی کی ہے، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا پارٹی کو پارلیمانی اکثریت حاصل ہو پائے گی یا نہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ اسمبلی میں لبرل پارٹی کے پاس 152، کنزرویٹو کے پاس 120، Bloc Québécois کے پاس 33 اور این ڈی پی کے پاس 24 نشستیں تھیں۔
یہ انتخابات ایسے وقت میں ہوئے جب عوام مہنگے رہائشی مکانات، 6.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپناہ گزینوں کی میزبانی کرنیوالے ممالک کو گرانٹس دی جائے: پاکستانی مندوب افتخار احمد بھارت کا فرانس سے مزید 26رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ چینی وزارت خارجہ نے چین اور امریکہ کے سربراہان مملکت کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کا دعویٰ مسترد کر دیا جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بغیر کارروائی کے 3 مئی تک ملتوی جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں دھماکا، 7 افراد جاں بحق، متعدد زخمی امید ہے کہ بھارت اور پاکستان مذاکرات کے ذریعے موجودہ اختلافات کو حل کریں گے،چینی وزارت خارجہ صنم جاوید اور ان کے شوہر کو حراست میں لے لیا گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں لبرل پارٹی پارٹی کو
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس