چین میں نجی معیشت کی ترقی کا قانون 20 مئی سے نافذ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
بیجنگ :قومی عوامی کانگریس کی چودہویں اسٹینڈنگ کمیٹی کے پندرہویں اجلاس میں “عوامی جمہوریہ چین کے نجی معیشت کو فروغ دینے کے قانون” کو ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا گیا۔ اس قانون میں 9 ابواب شامل ہیں، جن میں عمومی اصول، منصفانہ مقابلہ، سرمایہ کاری اور فنانس کو فروغ دینا، سائنسی اور تکنیکی اختراعات، معیاری کاروبار، خدمات کی ضمانت، حقوق کا تحفظ، قانونی ذمہ داری، اور اضافی دفعات شامل ہیں۔ یہ قانون 20 مئی 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔نجی معیشت کی ترقی سے متعلق چین کے پہلے بنیادی قانون کی حیثیت سے، یہ قانون نجی معیشت کی ترقی کے عمومی ماحول کو مزید بہتر بنائے گا، تمام اقسام کی اقتصادی تنظیموں کے مارکیٹ کے مقابلے میں منصفانہ شرکت کو یقینی بنائے گا ، نجی معیشت اور نجی اقتصادی عملے کی صحت مند ترقی کو فروغ دے گا اور ایک اعلیٰ سطحی سوشلسٹ مارکیٹ اقتصادی نظام کی تعمیر اور قومی اقتصادی ترقی اور سماجی ترقی میں نجی معیشت کے اہم کردار کو ادا کرنے میں مدد دے گا ۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔