اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس میں  وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ وزارت قانون کی ججز ٹرانفر کیلئے سمری میں بھی تضاد  ہے۔

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت ہوئی، وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ وزارت قانون کی ججز ٹرانفر کیلئے سمری میں بھی تضاد  ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری قانون نے لکھا کوئی سندھ کا جج نہیں،چیف  جسٹس پاکستان کو بھی لکھا گیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں سندھ سے کوئی جج نہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آپ کہنا چاہتے ہیں ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت کا تعلق سندھ سے ہے،جسٹس ثمن رفعت کا تعلق کراچی سے ہے۔

لاہور ہائیکورٹ ؛سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری 

جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہاکہ پہلی جو سمری تیار ہوئی اس میں اندرون سندھ کا ذکر تھا،یہ انجانے میں غلطی ہو سکتی ہے اندرون سندھ کے بجائے سندھ لکھاگیا، کراچی کو تو اندرون سندھ سے الگ ہی لکھا جاتا ہے،منیر اے ملک نے کہاکہ سمری میں غلطیاں حکومت کی نااہلی اور غیرسنجیدگی کو ظاہر کرتی ہیں،سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت 7مئی تک ملتوی  کردی گئی۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: منیر اے ملک سپریم کورٹ کورٹ میں نے کہاکہ

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ