ٹرمپ کی صدارت کے 100 دن مکمل، کارکردگی کو تاریخی قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انکے دور صدارت (2017ء تا 2021ء) میں امریکہ کی معیشت تاریخ کی سب سے مضبوط معیشت تھی، انہوں نے کہا کہ ہم نے زبردست کارکردگی دکھائی اور اب ہم اس سے بھی بہتر کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشی گن کے شہر وارن میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنی دوسری مدت صدارت کے ابتدائی 100 دنوں کی کارکردگی کو تاریخی کامیابیاں قرار دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عوامی خطاب میں ڈیموکریٹک پارٹی خاص طور پر سابق صدر جو بائیڈن پر سخت تنقید کی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور صدارت (2017ء تا 2021ء) میں امریکہ کی معیشت تاریخ کی سب سے مضبوط معیشت تھی، انہوں نے کہا کہ ہم نے زبردست کارکردگی دکھائی اور اب ہم اس سے بھی بہتر کر رہے ہیں۔ مشی گن، جو امریکہ کی آٹو انڈسٹری کا مرکز اور ایک سیاسی طور پر فیصلہ کن ریاست ہے، میں یہ جلسہ صدر ٹرمپ کی 20 جنوری کو حلف برداری کے بعد سب سے بڑا اجتماع تھا۔
ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ وہ اپنے عہدے سے انصاف نہیں کر رہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں امریکی عوام مہنگائی میں مسلسل اضافے اور دنیا بھر کے ممالک پر لگائے گئے ٹیرف (ٹیکس) کے باعث معاشی پالیسیوں پر تشویش کا شکار ہیں۔ وارن، جہاں جنرل موٹرز کا ٹیکنیکل سینٹر بھی واقع ہے، میں ہزاروں افراد نے اس ریلی میں شرکت کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکہ کو دوبارہ معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ان کے ناقدین کو ان کی کامیابیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔