ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انکے دور صدارت (2017ء تا 2021ء) میں امریکہ کی معیشت تاریخ کی سب سے مضبوط معیشت تھی، انہوں نے کہا کہ ہم نے زبردست کارکردگی دکھائی اور اب ہم اس سے بھی بہتر کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشی گن کے شہر وارن میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنی دوسری مدت صدارت کے ابتدائی 100 دنوں کی کارکردگی کو تاریخی کامیابیاں قرار دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عوامی خطاب میں ڈیموکریٹک پارٹی خاص طور پر سابق صدر جو بائیڈن پر سخت تنقید کی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور صدارت (2017ء تا 2021ء) میں امریکہ کی معیشت تاریخ کی سب سے مضبوط معیشت تھی، انہوں نے کہا کہ ہم نے زبردست کارکردگی دکھائی اور اب ہم اس سے بھی بہتر کر رہے ہیں۔ مشی گن، جو امریکہ کی آٹو انڈسٹری کا مرکز اور ایک سیاسی طور پر فیصلہ کن ریاست ہے، میں یہ جلسہ صدر ٹرمپ کی 20 جنوری کو حلف برداری کے بعد سب سے بڑا اجتماع تھا۔

ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ وہ اپنے عہدے سے انصاف نہیں کر رہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں امریکی عوام مہنگائی میں مسلسل اضافے اور دنیا بھر کے ممالک پر لگائے گئے ٹیرف (ٹیکس) کے باعث معاشی پالیسیوں پر تشویش کا شکار ہیں۔ وارن، جہاں جنرل موٹرز کا ٹیکنیکل سینٹر بھی واقع ہے، میں ہزاروں افراد نے اس ریلی میں شرکت کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکہ کو دوبارہ معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ان کے ناقدین کو ان کی کامیابیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

میانمار میں سوچی کے تاریخی بنگلے کی نیلامی چوتھی بار ناکام

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 اپریل 2025ء) میانمار میں حکام منگل 29 اپریل کو آنگ سان سوچی کے ایک جھیل کے کنارے واقع بنگلے کو نیلام کرنے میں چوتھی بار بھی ناکام رہے۔ اب بھی جیل میں بند نوبل امن انعام یافتہ سوچی کی اس رہائش گاہ کو خریدنے کے لیے کوئی بھی بولی لگانے کو تیار نہ ہوا۔

میانمار: بدعنوانی کیس میں آنگ سان سوچی کو پانچ برس قید کی سزا

یہ شاندار دو منزلہ گھر ینگون کے مہنگے اور معروف یونیورسٹی ایوینیو روڈ پر واقع ہے لیکن اس کا مین گیٹ زنگ آلودہ ہو چکا ہے۔

اس بنگلے کی نیلامی کے لیے عدالت کے مقرر کردہ افسر نے بتایا کہ نیلامی میں اس کی ابتدائی قیمت 128 ملین ڈالر رکھی گئی تھی۔

نیلامی کے لیے بولی لگانے کی کارروائی شروع ہونے سے قبل صحافیوں اور ایک درجن کے قریب پولیس اہلکاروں نے بھی اس رہائش گاہ کا معائنہ کیا۔

(جاری ہے)

میانمار فوج، سوچی کے خلاف ایک نیا کیس

عدالت کی طرف سے مقرر کردہ افسر نے تین بار پوچھا کہ کیا کوئی اس بنگلے کے لیے بولی لگانے کو تیار ہے، جب کوئی جواب نہ ملا، تو اس افسر نے کہا، ''ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ نیلامی کامیاب نہیں ہوئی۔

‘‘

آنگ سان سوچی کو 2021 کی فوجی بغاوت کے دوران معزول کیے جانے کے بعد جیل بھیج دیا گیا تھا لیکن فوجی جنتا کے سابقہ ​​دور میں انہوں نے اپنی نظر بندی کے کئی سال اسی تاریخی اور مہنگی رہائش گاہ میں گزارے تھے۔

رہائشی عمارت کی تاریخی اہمیت

طویل قانونی جھگڑے کے بعد سوچی کے بھائی نے اس بنگلے کے آدھے حصے کے حقوق حاصل کر لیے ہیں۔

اس حویلی کی فروخت کی نگرانی فوجی جنتا کے مقرر کردہ اہلکار کر رہے ہیں اور سوچی اس نیلامی سے ہونے والی آمدنی کے نصف کی حقدار ہیں۔

سوچی نے اپنی نظربندی کے دوران یونیورسٹی ایوینیو روڈ پر واقع اس بنگلے کے گیٹ کے قریب سے کئی مرتبہ تقریریں کی تھیں۔ جمہوریت اور پرامن مزاحمت کے حوالے سے ان کی تقریروں کو سننے کے لیے سینکڑوں لوگ اس بنگلے کے پاس جمع ہوتے تھے۔

جمہوریت کے لیے طویل جدوجہد کے بعد سن دو ہزار دس میں سوچی ملک رہنما منتخب ہوئی تھیں اور انہوں نے اپنی قیادت میں بننے والی نئی لیکن سویلین حکومت کو ابتدا میں نوآبادیاتی دور میں تعمیر کردہ اسی عمارت سے چلایا تھا۔

ملک میں جمہوریت کے قیام کے بعد کے برسوں میں اس تاریخی عمارت میں باراک اوباما اور ہلیری کلنٹن سمیت متعدد سرکردہ غیر ملکی رہنماؤں اور مہمانوں کی میزبانی کی گئی تھی۔

سوچی اب بھی جیل میں

جب سے میانمار میں فوج نے سوچی سے اقتدارچھینا ہے، انہیں دارالحکومت نیپیداو میں ایسے الزامات کے تحت جیل میں بند رکھا جا رہا ہے، جنہیں ناقدین مضحکہ خیز قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ الزامات سوچی کو سیاست سے ہٹانے کے لیے لگائے گئے تھے۔

ریئل اسٹیٹ ایجنٹوں کا کہنا ہے کہ ینگون کے مہنگے ترین علاقوں میں اتنی بڑی غیر منقولہ جائیدادیں فی کس ایک ملین ڈالر سے لے کر دو ملین ڈالر تک میں مل سکتی ہیں۔

میانمار کی معیشت فوجی بغاوت کی وجہ سے شروع ہونے والی خانہ جنگی کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے بعد، یہ واضح نہیں کہ اس ملک ملک میں اب کون اس پوزیشن میں ہو گا کہ وہ ایک خستہ حال بنگلے کو خریدنے کے لیے 128 ملین ڈالر خرچ کرے۔

سوچی کی اسے رہائش گاہ کو پہلی بار مارچ 2024 میں 150 ملین امریکی ڈالر کے عوض فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد سے تین نیلامیوں میں سے ہر ایک میں بتدریج قیمت میں کمی کی جاتی رہی تھی۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • ’100 دن‘ مکمل ہونے پر جشن، صدر ٹرمپ کا امریکا مقدم رکھنے کا عزم
  • ٹرمپ کی صدارت کے 100 دن مکمل، کارکردگی کو تاریخی قرار دے دیا
  • موساد ایجنٹس ایران کیساتھ مذاکرات ثبوتاژ کرنے کیلئے کوشاں ہیں، ٹرمپ حامیوں کا انکشاف
  • میانمار میں سوچی کے تاریخی بنگلے کی نیلامی چوتھی بار ناکام
  • کینیڈین الیکشن کی فاتح وزیر اعظم مارک کارنی کی لبرل پارٹی
  • آئی پی ایل: سوریا ونشی کا تاریخی کارنامہ، 14 سال کی عمر میں شاندار سینچری
  • مشترکہ مفادات کونسل نے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے منصوبے کو ختم کرنے کی منظوری دے دی
  • لاہور ہائیکورٹ بار نے ججوں کا تبادلہ آئین کے ساتھ فراڈ قرار دیدیا
  • سابق کپتان نے پہلگام واقعہ کو 'بھارت کا ڈرامہ' قرار دیدیا