بیجنگ :چین کے صدر شی جن پھنگ نے شنگھائی میں 15 ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران معاشی اور سماجی ترقی سے متعلق ایک سمپوزیم سے اہم خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ رواں سال “14 ویں پانچ سالہ منصوبہ” کا آخری سال ہے، اور ہمیں منصوبے کے اہداف اور فرائض پر عمل درآمد کو تیز تر کرتے ہوئےملک کے “15 ویں پانچ سالہ منصوبے” کی مدت کےلئے معاشی اور سماجی ترقی کی سائنسی طریقے سے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔بد ھ کے روز چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ نے سمپوزیم میں شرکت کی۔ سمپوزیم میں چین کے اندرونی منگولیا خوداختیار علاقے، شنگھائی ، صوبہ زے چیانگ، صوبہ حو بے، صوبہ گوانگ ڈونگ، صوبہ سیچھوان اور صوبہ گان سو کے سی پی سی کمیٹی کے سیکریٹریز نےاس حوالے سے اپنی اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ “15 ویں پانچ سالہ منصوبہ” کی مدت کے دوران معاشی اور سماجی ترقی کی منصوبہ بندی کرنے کے لئے ہمیں ملک پر بین الاقوامی صورتحال میں تبدیلیوں کے اثرات کا قبل از وقت خیال رکھتے ہوئے ثابت قدمی کےساتھ اپنے کام احسن انداز میں انجام دینا ہوگا۔ ہم اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو غیرمتزلزل طور پر بڑھا تے ہوئے روزگار، کاروباری اداروں، مارکیٹوں اور توقعات کو مستحکم بنانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائیں گے اور معاشی بنیادوں کو مؤثر طریقے سے مستحکم بناتے ہوئے نیا ترقیاتی ڈھانچہ تشکیل دینے کے سلسلے میں اعلیٰ معیار کی ترقی کو جامع طور پر فروغ دیں گے۔ شی جن پنگ نے نشاندہی کی کہ “15 ویں پانچ سالہ منصوبہ” کی مدت کے دوران مقامی حالات کے مطابق نئے معیار کی پیداواری قوتوں کی ترقی کو زیادہ نمایاں اسٹریٹجک مقام میں رکھنا ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چینی طرز کی جدیدکاری سوشلسٹ جدیدیت ہے جس میں تمام لوگ مشترکہ خوشحال ہوتے ہیں ، اور ترقی کے دوران مشترکہ خوشحالی کو مستقل طور پر فروغ دیا جانا چاہئے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ویں پانچ سالہ کے دوران چین کے

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار