ٹرمپ کے دور صدارت کے 100 دن مکمل ہونے پر عوامی مقبولیت کا سروے جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
امریکا کے 47ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنے دورِ صدارت کے ابتدائی 100 دن مکمل ہونے کا جشن منارہے ہیں۔
ٹرمپ کی اس دوسری مدت صدارت کو امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع اور دُوررس اثرات والا دورکہا جارہا ہے، تاہم رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ امریکی عوام اقتصادی و سیاسی عدم استحکام سے نالاں نظر آ رہے ہیں۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ اپنی حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر ریاست مشی گن میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کریں گے۔ یہ ان سوئنگ اسٹیٹس میں سے ایک ہے جہاں گزشتہ نومبر کے انتخابات میں اُنہوں نے کملا ہیرس کو شکست دی تھی۔
مقبولیت میں کمی
ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف چند مہینوں میں امریکی سیاست، معیشت اور خارجہ پالیسی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ابتدائی 100 دنوں میں ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور ارب پتی ایلون مسک کی قیادت میں وفاقی اداروں کی افرادی قوت میں زبردست کمی کی گئی ہے جبکہ خود صدر ٹرمپ نے اتحادی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنانے، غیر ملکی امداد تقریباً مکمل طور پر ختم کرنے اور درآمدی اشیا پر بھاری ٹیرف عائد کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔
تازہ سروے کے مطابق صرف 39 فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، یہ فروری میں ہونے والے سروے کے مقابلے میں 6 فیصد کی کمی ہے۔ خاص طور پر امیگریشن کے حوالے سے سخت اقدامات، جو ٹرمپ کی مقبول ترین پالیسی سمجھی جاتی تھی، اب عوامی ناپسندیدگی کا شکار ہیں اور بغیر عدالتی کارروائی کے ملک بدری جیسے اقدامات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
اے بی سی نیوز کے مطابق گزشتہ 80 سالوں میں کسی بھی صدر کے ابتدائی 100 دن کی کارکردگی کی مقبولیت کی یہ کم ترین شرح ہے۔ کم ترین مقبولیت کی شرح میں دوسرے نمبر پر بھی ٹرمپ ہی ہیں، ان کی پہلی مدت صدارت کے ابتدائی 100 دنوں میں مقبولیت بھی 42 فیصد تھی۔
ٹرمپ کا ردِعمل
صدر ٹرمپ نے ان سروے نتائج کو ’جعلی‘ قرار دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ’ہم زبردست کام کر رہے ہیں، پہلے سے کہیں بہتر!‘۔
تاہم خود ٹرمپ بھی کچھ پالیسیوں میں نرمی لانے پر مجبور نظر آتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب اسٹاک مارکیٹ مسلسل مندی کا شکار ہے۔ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں 6 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی ہے تاہم منگل کو مارکیٹ میں کچھ بہتری اس وقت آئی جب یہ خبر سامنے آئی کہ صدر ٹرمپ گاڑیوں کی صنعت پر لگائے گئے بعض بھاری ٹیرف کو کم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
اسی دوران ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کو برطرف کرنے کی دھمکی سے بھی پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا ہے، پاول نے خبردار کیا تھا کہ ٹرمپ کے ٹیرف سے مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کچھ اور تبدیلیاں بھی لے کر آئے ہیں، انہوں نے وائٹ ہاؤس کی مرکزی راہداری میں سابق صدر باراک اوباما کی تصویر ہٹا کر وہاں اپنی ایک پینٹنگ لگا دی ہے جس میں وہ اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے سے بچ نکلتے دکھائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ ان لا فرمز پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے جن کے وکلا ماضی میں ٹرمپ کے خلاف مقدمات سے وابستہ رہے، ساتھ ہی ٹرمپ نے یونیورسٹیوں کی اربوں ڈالر کی فنڈنگ بھی منجمد کر دی ہے، جو اکثر ان کی حکومت پر تنقید کرتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔