عرب اسلامی سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
دوحہ میں ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں تمام ریاستوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے اقدامات کو جاری رکھنے سے روکنے کے لیے تمام ممکن قانونی اور موثر اقدامات اٹھائیں، جن میں سفارتی اور اقتصادی تعلقات پر نظرثانی کرنا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنا شامل ہے۔
اس موقعے پر مسلم ممالک کے سربراہان نے کہا ہے کہ اسرائیل نے تمام ریڈلائنز عبور کر لی ہیں، اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں اسرائیلی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی توسیعی منصوبوں کو روکنے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے، انسانیت کے خلاف جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانا ہوگا، دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس انکوائری کمیشن نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو نسل کشی قرار دے دیا، جب کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کے رہنماؤں پر حملے جاری رکھے گا چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔
دوحہ میں خلیج تعاون کونسل کا ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال، خصوصاً اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک مربوط اور اجتماعی موقف اختیار کرنے پر غور کیا گیا۔ خلیج تعاون کونسل کی سپریم کونسل نے اس اجلاس کے دوران اپنی دفاعی کونسل کو واضح ہدایات جاری کیں کہ مشترکہ دفاعی نظام اور خطے کی مزاحمتی صلاحیتوں کو فعال کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اس موقعے پر کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے قطر کو نشانہ بنانا نہ صرف خود قطر کی سلامتی کے لیے بلکہ پوری خلیجی اور عرب دنیا کے امن و استحکام کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی محض فریقین کے مابین تنازعہ نہیں رہا، بلکہ اب یہ عالمی طاقتوں کی رسہ کشی، مفادات کی جنگ اور مذہبی، تہذیبی اور سیاسی اثرورسوخ کے پھیلاؤ کا اکھاڑہ بنتا جا رہا ہے۔
دوحہ میں منعقد ہونے والا ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جس میں مسلم دنیا کے سربراہان مملکت نے یک زبان ہو کر اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے تمام بین الاقوامی، انسانی اور اخلاقی حدوں کو پار کرنے کے مترادف قرار دیا۔ شرکائے اجلاس نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل نے جس انداز سے غزہ پر حملے کیے، اسپتالوں، اسکولوں، رہائشی علاقوں اور پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنایا، وہ صرف جنگی جرائم نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف سنگین مظالم ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں مسلم دنیا کے اتحاد، سنجیدگی اور عملی اقدامات کا حقیقی امتحان شروع ہوتا ہے۔
امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نہایت مدلل اور دوٹوک انداز میں اس حقیقت کی نشان دہی کی کہ ’’ گریٹر اسرائیل‘‘ کا نظریہ دراصل مشرق وسطیٰ میں مستقل عدم استحکام، تشدد اور کشیدگی کا ایندھن ہے۔ ان کا کہنا بالکل درست ہے کہ اسرائیل کی موجودہ جارحانہ پالیسیاں کسی محدود فوجی مقصد کے لیے نہیں، بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کی جانب دھکیلنے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف غزہ میں جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے بلکہ ہر اس کوشش کو ناکام بنانا ہے جو فلسطینی عوام کے جائز اور تاریخی حقوق کے حصول کی طرف جاتی ہو۔
وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔ انھوں نے تجویز دی کہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کی جائے، تاکہ اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا عملی جواب دیا جا سکے۔ ان کی جانب سے اسرائیل کے توسیعی منصوبوں کو روکنے کے لیے ایک ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز نہایت بروقت اور قابل عمل ہے۔
پاکستان کی یہ پالیسی کہ وہ فلسطین کے معاملے پر قطر سمیت تمام عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ کھڑا ہے، ایک مضبوط اور باعزت سفارتی موقف کی عکاسی کرتی ہے۔ وزیراعظم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت میں انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ ٹھہرایا جائے اور عالمی برادری کو اس ظلم کے خلاف اپنی خاموشی ترک کرنی چاہیے، کیونکہ خاموشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔
یہ بات عیاں ہے کہ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور بین الاقوامی ادارے ناکام ہو چکے ہیں یا پھر جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر مسلم دنیا، خصوصاً خلیج کے دولت مند اور عسکری طور پر مستحکم ممالک بھی عملی ردعمل سے گریز کرتے رہے تو اسرائیل مزید جارحیت کر سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صرف ’’ ہمیں افسوس ہے‘‘ یا ’’ ہم سخت مذمت کرتے ہیں‘‘ جیسے روایتی جملوں سے نکل کر ایک مضبوط، مربوط، قانونی اور عملی حکمت عملی اپنائی جائے۔
دوحہ اجلاس کی خاص بات یہ رہی کہ اسلامی ممالک نے مشترکہ موقف اختیار کیا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم، اس کا امتحان تب ہو گا جب ان بیانات کو عملی اقدامات میں بدلا جائے گا۔ عرب لیگ، او آئی سی اور جی سی سی جیسے پلیٹ فارمز کو چاہیے کہ وہ عالمی عدالت انصاف میں اسرائیلی جارحیت پر مقدمات دائر کریں، اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھنے والے ممالک پر دباؤ ڈالیں اور فلسطینی عوام کے حق میں ایک عالمی سفارتی مہم کا آغاز کریں۔
مغربی میڈیا کا بڑا حصہ یا تو اسرائیلی بیانیے کو فروغ دے رہا ہے یا پھر فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں مسلم ممالک کے میڈیا کو چاہیے کہ وہ ایک متبادل بیانیہ تشکیل دے، اور دنیا کے سامنے اسرائیلی مظالم کی حقیقت کو بے نقاب کرے۔
اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس انکوائری کمیشن کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو نسل کشی قرار دینا، اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینیوں پر کس قدر خوفناک مظالم ہورہے ہیں۔ کمیشن نے فلسطین کی حالیہ صورتحال، خاص طور پر 2023 اور 2024 کے دوران اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی فوجی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور اپنی رپورٹ میں ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اور ان ہولناک جرائم کی براہِ راست ذمے داری اسرائیل کے اعلیٰ ترین حکام، جن میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو، اسرائیلی صدر اور سابق وزیرِ دفاع قرار دیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد نہ صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنانا تھا بلکہ ان میں ایک مخصوص نسلی اور قومی گروہ، یعنی فلسطینی عوام، کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر تباہ کرنے کی دانستہ کوشش کی گئی۔ نسل کشی کا الزام ایک بین الاقوامی قانونی اصطلاح ہے جو اس وقت عائد کیا جاتا ہے جب کسی مخصوص گروہ کو جزوی یا مکمل طور پر تباہ کرنے کی نیت سے منظم اقدامات کیے جائیں، اور رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایسے ہی اقدامات کیے۔ یہ رپورٹ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، اور بین الاقوامی فوجداری عدالت جیسے اداروں کے لیے ایک مضبوط قانونی اور اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہے تاکہ ان جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسرائیل حماس کے رہنماؤں پر حملے جاری رکھے گا، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کو اپنی سرحدوں سے باہر بھی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس کے خلاف کارروائی ضروری ہے کیونکہ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے، تاہم انھوں نے اسرائیل کو محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا ۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی پالیسی میں سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے جب کہ امریکا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ان بیانات سے کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے، خصوصاً ان ممالک میں جہاں حماس کے رہنما موجود ہو سکتے ہیں، کیونکہ اسرائیلی حملوں کو وہاں خود مختاری کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے۔
اب وقت ہے کہ مسلمان حکمران، علماء، دانشور، صحافی، اور عوام سب مل کر ایک واضح اور مؤثر پیغام دیں کہ ظلم کے خلاف ہماری خاموشی ختم ہو چکی ہے۔ فلسطینی عوام تنہا نہیں، ان کے ساتھ پوری امت مسلمہ کھڑی ہے۔ اسرائیل کو نہ صرف عالمی قوانین کے تحت جوابدہ بنایا جائے گا بلکہ مسلم دنیا اپنے تمام وسائل بروئے کار لا کر اس بربریت کے خلاف ڈٹ جائے گی۔ یہی وہ موقع ہے جہاں تاریخ رقم کی جائے گی، یا پھر تاریخ ہمیں فراموش کر دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہے کہ اسرائیل میں اسرائیلی بین الاقوامی فلسطینی عوام میں اسرائیل اقوام متحدہ اسرائیل کی اسرائیل کے اسرائیل کو کی جانب سے کے لیے ایک مسلم دنیا حملوں کو دنیا کے کے خلاف حماس کے اور اس
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :