چیٹ جی پی ٹی مقبولیت کھو بیٹھا، امریکا اور برطانیہ میں گوگل جیمینائی ٹاپ پر
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سان فرانسسکو: گوگل کا نیا اے آئی پلیٹ فارم جیمینائی تیزی سے عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے اور اس نے مقبولیت کے میدان میں اپنے سب سے بڑے حریف اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
خاص طور پر امریکا اور برطانیہ میں آئی فون صارفین کے لیے جیمینائی کی نئی امیج ایڈیٹنگ خصوصیات نے دھوم مچا دی ہے، جس کے بعد یہ ایپل کی ٹاپ فری ایپس کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگست کے آخر میں گوگل نے جیمینائی 2.
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی تیزی سے پذیرائی حاصل کرنا گوگل کے لیے ایک بڑا سنگِ میل ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین اب اے آئی پر مبنی تخلیقی سہولیات کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔
فیچر کے لانچ کے بعد امریکا میں جیمینائی نے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی اور میٹا کی ایپ تھریڈز کو پیچھے چھوڑ دیا۔ برطانیہ میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو ملا جہاں جیمینائی نے نہ صرف چیٹ جی پی ٹی بلکہ مشہور شاپنگ ایپ ٹی مو کو بھی مقبولیت کی دوڑ میں مات دے دی۔
یہ صورتحال گوگل کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس کے ذریعے کمپنی نے ثابت کیا ہے کہ وہ اے آئی کی دوڑ میں اپنے حریفوں سے پیچھے نہیں بلکہ کئی پہلوؤں میں آگے ہے۔
یاد رہے کہ 26 اگست کو گوگل نے اپنی اپ ڈیٹس کا اعلان کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ جیمینائی کا نیا امیج جنریشن اور ایڈیٹنگ ماڈل اسٹیٹ آف دی آرٹ ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ فیچر ایسے کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جن کا تصور بھی حریف کمپنیاں ابھی نہیں کر پا رہیں۔
اس دعوے کے بعد صارفین کے عملی ردِعمل نے گوگل کے اعتماد کو درست ثابت کیا اور ایپ مارکیٹ میں اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی۔
یہ بات واضح ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں مقابلہ دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے اور ہر نئی جدت صارفین کے انتخاب کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔
فی الحال گوگل جیمینائی کا نیا فیچر اس دوڑ میں سب سے نمایاں ہے اور آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ چیٹ جی پی ٹی یا دیگر حریف کمپنیاں اس کا جواب کس طرح دیتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی اے ا ئی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔