data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سان فرانسسکو: گوگل کا نیا اے آئی پلیٹ فارم  جیمینائی تیزی سے عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے اور اس نے مقبولیت کے میدان میں اپنے سب سے بڑے حریف اوپن اے آئی کے  چیٹ جی پی ٹی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

خاص طور پر امریکا اور برطانیہ میں آئی فون صارفین کے لیے جیمینائی کی نئی امیج ایڈیٹنگ خصوصیات نے دھوم مچا دی ہے، جس کے بعد یہ ایپل کی ٹاپ فری ایپس کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اگست کے آخر میں گوگل نے جیمینائی 2.

5 فلیش امیج ماڈل نینو بنانا متعارف کرایا، جو تیزی کے ساتھ مقبول ہوا۔ صرف دو ہفتوں کے اندر صارفین نے اس فیچر کو استعمال کرتے ہوئے 50 کروڑ سے زیادہ تصاویر تیار کیں، جو اس کی کامیابی اور صارفین کی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی تیزی سے پذیرائی حاصل کرنا گوگل کے لیے ایک بڑا سنگِ میل ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین اب اے آئی پر مبنی تخلیقی سہولیات کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔

فیچر کے لانچ کے بعد امریکا میں جیمینائی نے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی اور میٹا کی ایپ  تھریڈز کو پیچھے چھوڑ دیا۔ برطانیہ میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو ملا جہاں جیمینائی نے نہ صرف چیٹ جی پی ٹی بلکہ مشہور شاپنگ ایپ  ٹی مو کو بھی مقبولیت کی دوڑ میں مات دے دی۔

یہ صورتحال گوگل کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس کے ذریعے کمپنی نے ثابت کیا ہے کہ وہ اے آئی کی دوڑ میں اپنے حریفوں سے پیچھے نہیں بلکہ کئی پہلوؤں میں آگے ہے۔

یاد رہے کہ 26 اگست کو گوگل نے اپنی اپ ڈیٹس کا اعلان کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ جیمینائی کا نیا امیج جنریشن اور ایڈیٹنگ ماڈل  اسٹیٹ آف دی آرٹ ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ فیچر ایسے کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جن کا تصور بھی حریف کمپنیاں ابھی نہیں کر پا رہیں۔

اس دعوے کے بعد صارفین کے عملی ردِعمل نے گوگل کے اعتماد کو درست ثابت کیا اور ایپ مارکیٹ میں اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی۔

یہ بات واضح ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں مقابلہ دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے اور ہر نئی جدت صارفین کے انتخاب کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔

فی الحال گوگل جیمینائی کا نیا فیچر اس دوڑ میں سب سے نمایاں ہے اور آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ چیٹ جی پی ٹی یا دیگر حریف کمپنیاں اس کا جواب کس طرح دیتی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی اے ا ئی

پڑھیں:

پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا

پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔

حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ