صوابی اور بنوں میں دہشت گردی کے واقعات، 3 اہلکار شہید، 5 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا کے اضلاع صوابی اور بنوں میں دہشت گردی کے دو مختلف واقعات پیش آئے۔ صوابی میں تھانہ صوابی کی حدود جھنڈا چوکی پر نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ کی، جبکہ بنوں میں کمپنی روڈ پر سی ٹی ڈی اہلکاروں پر حملے میں تین اہلکار شہید اور 2 زخمی ہو گئے۔
ڈی پی او صوابی محمد اظہر خان کے مطابق نامعلوم افراد نے جھنڈا چوکی پر اچانک فائرنگ کی تاہم پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کر دیا۔
حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قریبی جنگل کی طرف فرار ہو گئے۔
ڈی پی او کے مطابق علاقے میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن جاری ہے اور شرپسندوں کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
بنوں کے علاقے ڈومیل میں کمپنی روڈ پر سی ٹی ڈی پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس کے نتیجے میں سی ٹی ڈی کے تین اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے، فائرنگ کی زد میں آ کر تین شہری بھی زخمی ہوئے۔
شہداء اور زخمیوں کو فوری طور پر کے جی این ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ریسپانس کے طور پر بنوں پولیس کی اضافی نفری اور بکتر بند گاڑیاں روانہ کر دی گئیں۔
ریجنل پولیس آفیسر بنوں سجاد خان اور ڈی پی او بنوں سلیم عباس کلاچی نے اسپتال پہنچ کر زخمی اہلکاروں کی عیادت کی اور شہداء کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔