UrduPoint:
2026-06-03@00:12:07 GMT
آج ہمیں معاشرے میں اخوت، رواداری اور خدمت کے جذبے کو فروغ دینا ہے ،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 مئی2025ء) یہ دنیا فانی ہے، اور ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ آج ہم اپنے پیاروں کے لیے دعائے مغفرت کے لیے جمع ہیں، لیکن یہ لمحہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے۔ میرے بھائی ملک سجاد حیدر اعوان ایک بااخلاق، عوام دوست اور خدمتِ خلق سے سرشار نوجوان تھا، جنہوں نے ہمیشہ خلق خدا کی بے لوث خدمت کو اپنا نصب العین بنایا۔
ایک دلخراش حادثہ میں ان کی رحلت میرے لیے ذاتی صدمے سے کم نہیں، لیکن میں ان کی زندگی اور خدمات پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ ہمیں اپنے مرحومین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے معاشرے میں اخوت، رواداری اور خدمت کے جذبے کو فروغ دینا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اپنے مرحوم بھائی ملک سجاد حیدر اعوان اور دیگر مرحومین کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے منعقدہ فاتحہ خوانی کی پُرسوز اور باوقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آج کی یہ تقریب محض ایک رسمی دعا نہیں بلکہ ایک اجتماعی عزم کی علامت ہے کہ ہم ان اعلیٰ اقدار کو زندہ رکھیں گے جن پر ہمارے مرحومین کاربند رہے۔(جاری ہے)
اس موقع پر انہوں نے کہا میں تمام معزز شرکاء، علمائے کرام، سیاسی و سماجی شخصیات، اور عوام الناس کی شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر اس دعا میں شرکت کی اور ہمارے دکھ میں شریک ہوئے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔