آج ہمیں معاشرے میں اخوت، رواداری اور خدمت کے جذبے کو فروغ دینا ہے ،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 مئی2025ء) یہ دنیا فانی ہے، اور ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ آج ہم اپنے پیاروں کے لیے دعائے مغفرت کے لیے جمع ہیں، لیکن یہ لمحہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے۔ میرے بھائی ملک سجاد حیدر اعوان ایک بااخلاق، عوام دوست اور خدمتِ خلق سے سرشار نوجوان تھا، جنہوں نے ہمیشہ خلق خدا کی بے لوث خدمت کو اپنا نصب العین بنایا۔
ایک دلخراش حادثہ میں ان کی رحلت میرے لیے ذاتی صدمے سے کم نہیں، لیکن میں ان کی زندگی اور خدمات پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ ہمیں اپنے مرحومین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے معاشرے میں اخوت، رواداری اور خدمت کے جذبے کو فروغ دینا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اپنے مرحوم بھائی ملک سجاد حیدر اعوان اور دیگر مرحومین کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے منعقدہ فاتحہ خوانی کی پُرسوز اور باوقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آج کی یہ تقریب محض ایک رسمی دعا نہیں بلکہ ایک اجتماعی عزم کی علامت ہے کہ ہم ان اعلیٰ اقدار کو زندہ رکھیں گے جن پر ہمارے مرحومین کاربند رہے۔(جاری ہے)
اس موقع پر انہوں نے کہا میں تمام معزز شرکاء، علمائے کرام، سیاسی و سماجی شخصیات، اور عوام الناس کی شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر اس دعا میں شرکت کی اور ہمارے دکھ میں شریک ہوئے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔