بھارت کے کسی بھی فوجی مس ایڈونچر کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت کے کسی بھی فوجی مس ایڈونچر کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا، پاکستان علاقائی امن کا عزم کیے ہوئے ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینجز کا دورہ کیا جہاں کور کمانڈر نے ان کا استقبال کیا، آرمی چیف نے ہیمر اسٹرائیک مشق کا مشاہدہ کیا۔ یہ مشق دشمن کے قریب حقیقی جنگی حالات کی عکاسی کے لیے ترتیب دی گئی تھی تاکہ جنگی تیاری، میدانِ جنگ میں ہم آہنگی اور جدید ترین ہتھیاروں کے مؤثر استعمال کو جانچا جا سکے۔مشق میں کثیر المقاصد لڑاکا طیاروں، جنگی ہیلی کاپٹروں، طویل فاصلے تک مار کرنے والی آرٹلری، اور جدید فیلڈ انجینیئرنگ تکنیکس کا استعمال کیا گیا۔ تمام یونٹس نے شاندار ہم آہنگی، چُستی اور مؤثر حملہ آور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، جو فوج کی اعلیٰ تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
رواں سال کی پہلی سہ ماہی، سعودی معیشت میں بھاری اضافہ، شرح نمو کیا رہی؟
آرمی چیف نے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، مہارت اور جنگی جذبے کو سراہا اور انہیں پاکستان آرمی کی عملی مہارت کی مثال قرار دیا۔ اپنے خطاب میں جنرل عاصم منیر نے کہا پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر تیار ہیں۔ اگر بھارت نے کوئی فوجی مہم جوئی کی کوشش کی تو اسے بھرپور، فوری اور موثر جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل تیار ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔