بھارت جان لے !اس بار چائے کیساتھ سموسوں ، پکوڑوں کا بھی انتظام ہے ، وارث بیگ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
راولپنڈی (نیوزڈیسک)حال ہی میں گلوکار وارث بیگ نے بھی اپنے بیان سے مودی سرکار کو ابھی نندن واقعے کی یاد تازہ کروادی۔
نجی نیوز ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں گلوکار وارث بیگ کا کہنا تھا کہ ’ بھارتی فضائیہ کا پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن جب بارڈر کراس کرکے پاکستان آیا تھا تو ہم نے اُن کو چائے پلائی تھی ، ایک ایسی چائے جس کا ذکر انہوں نے بھارت جاکر بھی کیا تھا‘۔
وارث بیگ نے کہا کہ’ اگر اس بار بھارت نے پاکستانی سرحد پار کرنے کی کوشش کی یا پھر جو پانی پر دہشتگردی کی جارہی ہے تو اس بار بھارت جان لے اس کیلئے چائے کے ساتھ پکوڑے اور پٹاخہ سموسوں کا بھی انتظام ہوگا ‘ ۔
گلوکار وارث بیگ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’ مودی سرکار کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہمارے ملک میں مصیبت آئے تو ہم صرف 7 لاکھ فوجی نہیں ہوتے، ان فوجیوں کے پیچھے 25کروڑ کی عوام بھی فوج بن جاتی ہے، ہم فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں ‘ ۔
پاکستانی گلوکار نے مزید کہا کہ ’ میرا بھارت اور بھارتیوں کو یہ پیغام ہے کہ جو بھارتی سوشل میڈیا پر جنگ کی خواہش ظاہر کرکے اپنا کاروبار چمکارہے ہیں اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، یہاں کا ہر پاکستانی پاکستان کیلئے ، اس کی حفاظت کیلئے اور شہید ہونے کیلئے لڑتا ہے‘۔
پاکستان کا سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر بھارت کو نوٹس دینے کا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: وارث بیگ
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔