UrduPoint:
2026-07-24@06:25:42 GMT

دنیا بھر میں آزادی صحافت بدترین سطح پر، آر ایس ایف

اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT

دنیا بھر میں آزادی صحافت بدترین سطح پر، آر ایس ایف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 مئی 2025ء) صحافتی آزادی کے عالمی نگراں ادارے رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے اپنی سالانہ درجہ بندی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں صحافت کی آزادی ''تاریخی طور پر بدترین سطح‘‘ پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

فرانس میں قائم غیر سرکاری ادارے آر ایس ایف نے یہ رپورٹ گلوبل پریس فریڈم ڈے کے موقع پر جاری کی ہے۔

گلوبل پریس فریڈم ڈے ہر سال تین مئی کو منایا جاتا ہے۔ یہ درجہ بندی کیسے کی جاتی ہے؟

آر ایس ایف کی رپورٹ اس کے مطابق، دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی اُن ممالک میں رہتی ہے، جہاں صحافتی آزادی کی صورتحال ''انتہائی سنگین‘‘ قرار دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

آر ایس ایف نے تئیس برس قبل صحافتی آزادی کی درجہ بندی کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔

اس مرتبہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس ادارے کا مرکزی انڈیکس اپنی نچلی ترین سطح پر آ گیا ہے۔

یہ درجہ بندی ماہرین کی رائے اور ہر ملک میں صحافیوں کے خلاف پرتشدد واقعات سمیت دیگر اہم اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں پانچ زمروں میں جائزہ لیا جاتا ہے: سیاست، قانون، معیشت، سماجی و ثقافتی ماحول اور سلامتی۔

امریکہ میں صحافتی آزادی کی صورتحال پر آر ایس ایف کا مؤقف

آر ایس ایف نے کہا کہ امریکہ میں صحافتی آزادی کی صورتحال صدر ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے مسلسل خراب ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا، ''امریکہ میںڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں صحافتی آزادی میں خطرناک حد تک تنزلی آئی ہے، یہ بات حکومت کے آمرانہ رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔‘‘

اس ادارے نے ٹرمپ انتظامیہ پر سرکاری اداروں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، آزاد میڈیا کی حمایت کم کرنے اور رپورٹرز کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

اس رپورٹ کے مطابق امریکہ کی عالمی درجہ بندی 2024 کے مقابلے میں دو درجے گر کر 57ویں نمبر پر آ گئی۔ اب امریکہ آزادی صحافت کے حوالے سے مغربی افریقی ملک سیئرالیون سے بھی نیچے ہے۔

جرمنی کی درجہ بندی میں تنزلی

اس رپورٹ کے مطابق یورپ بدستور دنیا کا وہ خطہ ہے، جہاں صحافی سب سے زیادہ آزادی سے کام کرتے ہیں۔ دوسری طرف چین، شمالی کوریا اور اریٹیریا 180 ممالک کی فہرست میں سب سے نچلی پوزیشن پر ہیں۔

آر ایس ایف رپورٹ کے مطابق اس مرتبہ بھی ناروے پہلے نمبر پر ہے، گزشتہ نو سال سے اس یورپی ملک کو یہ اعزاز حاصل ہے۔ اس کے بعد ڈنمارک، سویڈن، نیدرلینڈز اور فن لینڈ کا نمبر آتا ہے۔ دنیا بھر میں صرف سات ممالک میں صحافت کی صورتحال ''اچھی‘‘ قرار دی گئی ہے اور یہ سب یورپ میں ہیں۔

جرمنی، جو پچھلے سال دسویں نمبر پر تھا، ایک درجہ نیچے آ کر گیارہویں نمبر پر آ گیا۔

آر ایس ایف نے اس کی وجہ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کی جانب سے صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملے اور مخاصمانہ ماحول کو قرار دیا۔

مزید کہا گیا کہ جرمن صحافیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع پر رپورٹنگ کرتے وقت بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

فلسطینی صحافیوں کی مشکلات

اس رپورٹ میں اسرائیل کی غزہ پر بمباری کے دوران فلسطینی صحافیوں کی حالت زار کا بھی ذکر کیا گیا۔

اس رپورٹ کے مطابق، ''غزہ میں اسرائیلی فوج نے نیوز رومز تباہ کیے، تقریباً 200 صحافی ہلاک کیے اور 18 ماہ سے زائد عرصے سے پٹی کا مکمل محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے۔‘‘ پاکستان کی صورتحال

عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی 180 ممالک میں سے 158ویں نمبر پر آئی ہے، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں چھ درجے کی کمی ہے۔

آر ایس ایف کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کو بڑھتی ہوئی سنسرشپ، سیاسی دباؤ اور تشدد کا سامنا ہے۔ کچھ صحافیوں کو قتل بھی کیا گیا ہے، جن میں سے اکثر کیسز میں انصاف نہیں مل سکا۔

مزید برآں، حکومت کی جانب سے پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) میں ترامیم اور توہین عدالت قوانین کے نفاذ نے میڈیا کی آزادی کو مزید محدود کیا ہے۔ صحافیوں کی تنظیموں نے ان قوانین کو ''کالے قوانین‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

اس رپورٹ میں پاکستان سمیت 42 ممالک کو ''ریڈ زون‘‘ میں شامل کیا گیا ہے، جہاں صحافت کرنا انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

ادارت: امتیاز احمد

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے صحافتی آزادی کی رپورٹ کے مطابق ر ایس ایف نے ا ر ایس ایف کی صورتحال آر ایس ایف میں صحافت رپورٹ میں اس رپورٹ کیا گیا

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق