جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دینگے، وزیر داخلہ کی عمانی ہم منصب سے گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دینگے، وزیر داخلہ کی عمانی ہم منصب سے گفتگو WhatsAppFacebookTwitter 0 4 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بلیم گیم سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کا موقف بہت واضح ہے جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے۔وزیر داخلہ مسقط میں عمان کی وزارت داخلہ پہنچے جہاں عمان کے وزیر داخلہ سید حمود بن فیصل البوسیدی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
محسن نقوی نے اپنے عمانی ہم منصب سید حمود بن فیصل البوسیدی سے ملاقات کی، ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عمانی وزیر داخلہ کو پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف سے آگاہ کیا اور کہا کہ بلیم گیم سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کا موقف بہت واضح ہے، جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان پر امن ملک ہے اور ہم خطے میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں، بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے عمان کا کلیدی کردار قابل تعریف ہے۔ملاقات کے دوران پاکستانیوں کو ویزا کے حصول میں مسائل، انسداد منشیات و انسداد اسمگلنگ، پولیس ٹرینگ اور کوسٹل گارڈز کے حوالے سے تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے کوآرڈینیشن بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا، اس کے علاوہ اسلام آباد اور مسقط کو سسٹر سٹیز قرار دینے پر اصولی اتفاق کیا گیا۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے عید پر پاکستانی قیدیوں کے لیے ایمنسٹی پر عمان کے سطان کا شکریہ ادا کیا جبکہ عمان کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے باہمی اشتراک کار بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔محسن نقوی نے کہا کہ عمان اور پاکستان مشترکہ اقدار رکھتے ہیں، ہم بھائی بھی ہیں اور ہمسائے بھی، پاک عمان تعاون کو نئی بلندیوں تک لے کر جائیں گے، عمان کے ساتھ اشتراک کار بڑھانے کے لیے اقدامات دنوں میں نظر آئیں گے۔عمان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور عمان انتہائی برادرانہ و تاریخی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔عمان کی وزارت داخلہ کے اعلی حکام اور پاکستانی سفیر سید نوید صفدر بخاری بھی اس موقع پر موجود تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی عدالت کا حریت رہنما الطاف احمد بٹ کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم بھارتی عدالت کا حریت رہنما الطاف احمد بٹ کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم انڈس واٹر کمیشن نے بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تفصیلات وفاقی حکومت کو بھجوا دیں مئی تا جولائی معمول کے مطابق بارشوں کا امکان، سیلاب کا خدشہ ایف بی آر کو ٹیکس ریکوری کیلئے مزید اختیارات مل گئے، آرڈینس جاری او آئی سی کا بھارت میں اسلاموفوبیا اور کشمیری مسلمانوں پر مظالم کیخلاف شدید ردعمل ملائیشیا نے بھارت سے تنازع میں پاکستانی موقف کی حمایت کر دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب وزیر داخلہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔