بھارت خوارج کو ہتھیار اور عسکری تربیت دے رہا ہے، علامہ جواد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
سربراہ تحریک بیداری امت مصطفی نے پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے پاس پاکستان کیخلاف 2مؤثر ہتھیار موجود ہیں، انڈیا ہر عالمی فورم پر پاکستان کو تنہا کرنے میں کامیاب ہوتا جا رہا ہے،شدت پسند مذہبی، تکفیری، فرقہ واریت پھیلانے والے مفتی و مولوی اور علیحدگی پسند عناصر، بالخصوص بلوچ باغی بھارت نے ان دونوں کو بروئے کار لا کر پاکستان کے داخلی امن کو نشانہ بنایا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ صورتحال پر لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کا کہنا تھا کہ عالمی منظرنامے میں بھارت پاکستان کے دوست ممالک کو اپنے اقتصادی و سیاسی تعلقات کے ذریعے اپنی صف میں شامل کر رہا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ، یورپی ممالک یہ سب اگرچہ پاکستان کیساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں، لیکن حقیقت میں بھارت کے اتحادی اور کاروباری شراکت دار بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت ہرعالمی فورم پر پاکستان کو تنہا کرنے میں کامیاب ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس پاکستان کیخلاف دو مؤثر ہتھیار موجود ہیں، ایک دہشتگردی اور دوسرا اندرونی خلفشار کو ہوا دینا، ان ہتھیاروں کا استعمال وہ انتہائی منظم انداز میں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے بعض اعلیٰ افسران خود تسلیم کر چکے ہیں۔ ان کے بیانات کے مطابق بھارت کو اپنے قیمتی ہتھیار ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ پاکستان کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو بھارت کے مقاصد کیلئے کام کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند مذہبی، تکفیری، فرقہ واریت پھیلانے والے مفتی و مولوی اور علیحدگی پسند عناصر، بالخصوص بلوچ باغی بھارت نے ان دونوں کو بروئے کار لا کر پاکستان کے داخلی امن کو نشانہ بنایا ہے۔ افغان سرزمین سے تیار ہو کر آنیوالے خوارج، جنہیں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ بھی "خوارج" تسلیم کرتی ہے، بھارت کی سرپرستی میں سرگرم ہیں۔ طالبان حکومت کے محدود وسائل کے پیش نظر یہ کہنا درست ہے کہ یہ خوارج بھارت کی پشت پناہی سے نہ صرف عسکری تربیت پاتے ہیں بلکہ انہیں جدید ہتھیار بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے پاکستان کی بھارت کے رہا ہے
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔