صیہونی فورسز کی غزہ میں بربریت جاری، 40 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
غزہ(نیوز ڈیسک)صیہونی فورسز کی جانب سے غزہ بھر میں وحشیانہ سفاکیت جاری، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 40 فلسطینی شہید جبکہ 125 زخمی ہوگئے۔
عرب میڈیا کے مطابق شمالی اور وسطی غز ہ سمیت رفاہ ، خان یونس ، دیرالبلاح اور نصیرات پر اسرائیلی حملوں میں اسرائیلی بربریت میں 1لاکھ 18 ہزار 491 زخمی بھی ہوچکے ہیں۔
اسرائیل نے بے بی فارمولہ، غذائی سپلیمنٹس اور ہر قسم کی انسانی امداد کے داخلے پر پابندی لگادی، غذائی قلت کے باعث ایک اور بچی چل بسی، فاقہ کشی سے شہید افراد کی تعداد 57 ہوگئی۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ میں پانچ سال سے کم عمر کے 3500 سے زائد بچوں کو بھوک سے موت کا خطرہ ہے، خوراک کی کمی کی وجہ سے 2 لاکھ 90 ہزار دیگرفلسطینی موت کے دہانے پر ہیں۔
کرکٹ میچ کے دوران جھگڑے پر بلے سے تشدد ، نوجوان ہلاک
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔