پاک بھارت کشیدگی پر میری اپنی بھارتی بیگم سے بحث نہیں ہوتی، حسن علی
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
قومی ٹیم کے فاسٹ باولر حسن علی نے کہا کہ میں نے ٹیم سے باہر رہنے کے دوران اپنی فٹنس، ڈسپلن اور باؤلنگ پہ کام کیا ہے، جو چیزیں میری باؤلنگ میں مسنگ تھیں ان کو بہتر کیا۔
انہوں نے کہا کہ آپ تسلسل سے کرکٹ کھیلتے ہیں تو آپ کو پتا نہیں چلتا کہ باؤلنگ میں آپ کونسی بری عادتیں اپنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جب حسن علی نے بھارتی لڑکی سے شادی کی خواہش ظاہر کی تو گھر والوں نے کیا کہا؟
حسن علی کا کہنا تھا میری بیگم بھارت سے ہیں لیکن پاک بھارت کشیدگی پہ میری ان سے کوئی بحث نہیں ہوتی، اچھا یہ ہوگا کہ یہ معاملات سیاستدانوں پہ چھوڑ دیے جائیں، حالات پہلے بھی ایسے ہوئے ہیں مگر ہمارا کام کرکٹ کھیلنا ہے۔
انہوں نے امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ امن حل ہے، میں اپنے ملک سے پیار کرتا ہوں اور وہ اپنے ملک سے لیکن ہماری اس پر بحث کبھی نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حسن علی
پڑھیں:
مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔