اسلام آباد (احسان بخاری)پاکستان میں کام کرنے والی متعدد معروف رئیل اسٹیٹ اور ای کامرس کمپنیاں اربوں روپے کے فراڈ میں ملوث نکلیں، جن میں امارات گروپ، گھرانہ ڈاٹ کام، ایمازون مال، مال آف امارات اور ایجنسی 21 شامل ہیں۔ متاثرہ شہریوں نے ان کمپنیوں کے خلاف متعدد شکایات قومی احتساب بیورو (نیب) میں جمع کروا رکھی ہیں، لیکن تاحال کوئی عملی کارروائی نہ ہونے پر آج نیب راولپنڈی آفس اور پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں نے اربوں روپے ہتھیا لیے ہیں اور بارہا شکایات کے باوجود نہ ہی رقم واپس کی گئی ہے اور نہ ہی نیب نے سنجیدہ ایکشن لیا ہے۔ متاثرین میں شامل ڈاکٹر صفدر، احتشام خان اور دیگر نے بتایا کہ انہوں نے چیئرمین شفیق اکبر، فرحان جاوید، ارسلان جاوید سمیت دیگر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے بارہا نیب سے رجوع کیا لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔

متاثرین نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، ڈی جی نیب، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری تحقیقات کرکے ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلا دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان