پاکستان کا دفاع بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے: شوکت یوسفزئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
شوکت یوسفزئی---فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے، بھارت کو اندازہ ہوچکا کہ پاکستان مضبوط ملک ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم تو کہتے ہیں کہ آل پارٹیز کانفرنس بلائیں، فورم یہ ہوتا ہے کہ جب آپ ہماری تجاویز سنیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کو این آر او کا رنگ دینا افسوسناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سفارتکاری میں تیزی آنی چاہیے، مستقل طور پر سفارتی سطح پر بھارت کے خلاف مہم جاری رکھی جائے، سفارتی طور پر کمزرویوں کو ضرور دور کرنا چاہیے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بھارت پوری دنیا میں جا کر دہشت گردی کر رہا ہے، بھارت میں بی جے پی کی مقبولیت کا گراف نیچے جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شوکت یوسفزئی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔