ممبئی(نیوز ڈیسک)بھارت کے کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر کی صاحبزادی سارہ ٹنڈولکر ایک بار پھر میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ اس بار ان کا نام بالی وڈ کے معروف اداکار سدھانت چترویدی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، جس سے نئی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، سارہ اور سدھانت کے درمیان تعلقات کے بارے میں خبریں گردش کر رہی ہیں، خاص طور پر شبمن گل سے علیحدگی کے بعد۔

یاد رہے کہ سارہ اور بھارتی کرکٹر شبمن گل کے درمیان تعلقات کی افواہیں گزشتہ کچھ برسوں سے سرگرم تھیں، مگر دونوں نے کبھی ان خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

حالیہ آئی پی ایل سیزن کے دوران کمنٹیٹر ڈینی موریسن کی جانب سے شبمن گل سے اچانک شادی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر وہ حیران ہو گئے اور خاموشی سے آگے بڑھ گئے، جس سے مزید قیاس آرائیاں جنم لینے لگیں۔

اسی دوران یہ بھی سامنے آیا کہ سارہ اور شبمن نے ایک دوسرے کو انسٹاگرام پر اَن فالو کر دیا ہے، جس سے ان کے تعلقات میں دراڑ کی قیاس آرائیاں مزید زور پکڑ گئیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایک بھارتی فلمی جریدے نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سارہ ٹنڈولکر اس وقت اداکار سدھانت چترویدی کو ڈیٹ کر رہی ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، سارہ کے قریبی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سدھانت چترویدی کا سابقہ تعلق امیتابھ بچن کی نواسی نویہ نندا کے ساتھ رہا تھا، تاہم اب دونوں کے راستے جدا ہو چکے ہیں۔

سارہ ٹنڈولکر نہ صرف سچن ٹنڈولکر کی بیٹی ہونے کے ناطے مشہور ہیں، بلکہ وہ اپنی تعلیمی قابلیت اور ماڈلنگ کیریئر کے باعث بھی پہچانی جاتی ہیں۔

سارہ نے 1997 میں پیدا ہونے کے بعد دھیرو بھائی امبانی انٹرنیشنل اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں یونیورسٹی کالج لندن سے ایم ایس سی کی ڈگری مکمل کی۔ انہوں نے 2021 میں ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور ایک مقامی فیشن برانڈ کی مہم کا حصہ بنی۔

سارہ سوشل میڈیا پر بھی خاصی متحرک رہتی ہیں، جہاں وہ اپنے مداحوں کے ساتھ اپنی تعلیمی، پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کی جھلکیاں شیئر کرتی ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ سارہ اور سدھانت کے درمیان تعلقات پر مزید کیا نئے انکشافات سامنے آتے ہیں، اور کیا ان کے رشتہ میں مزید کوئی پیش رفت ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سارہ ٹنڈولکر سارہ اور شبمن گل کہ سارہ

پڑھیں:

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے۔

ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ اپ نے لاسٹ ٹائم گاڑی کی ٹینکی یا موٹر سائیکل کی ٹینکی کب فل کرائی تھی تو  100  میں سے تقریباً 90  لوگوں نے کہا کہ ان کو تو یاد ہی نہیں ہے کہ  ٹینکی بھی کبھی فل کرائی  تھی۔

گاڑی میں  سوار اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ  دو ہزار کا تو کبھی  تین ہزار کا تو بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پٹرول ڈلوایا تھا  جبکہ موٹر سائیکل سوار   تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے، کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔

کچھ  موٹرسائیکل سواروں نے 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا  جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی  زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں۔

یہ تو مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں ۔

کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹینکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار  کا تو کبھی  ڈھائی ہزار کا پٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے کیونکہ بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا۔

اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی ایمرجنسی ہو تو تب گاڑی نکالی جاتی ہے جبکہ پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسییشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے، اب تو پٹرول پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے، تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔

بجلی کے بل پہلے جو پٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگ گئے ہیں اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو  پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے، جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ  اکثر گھروں میں  تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے۔

اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔

بہرحال پٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹینکی فل کرانا صرف ایک خواہش  ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • زندگی کا مقصد
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا