وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر بزدلانہ حملہ کیا گیا ہے، جس کا اس سے بڑھ کر بھرپور جواب دیں گے۔

واضح رہے کہ بھارت نے مظرآباد، کوٹلی اور بہاولپور میں میزائل داغے ہیں، جس کے نتیجے میں معصوم بچہ شہید اور دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کی جانب سے میزائل حملوں کی تصدیق کردی ہے، اور بتایا ہے کہ مظفرآباد، کوٹلی اور بہاولپور میں میزائل داغے گئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہم صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں، بھارت کی جانب سے شرمناک حملے کا بھرپور جواب دیا جائےگا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے احمد پور شرقیہ بہاولپور میں مسجد سبحان اللہ پر حملہ کیا، بھارتی بزدلانہ حملے میں مسجد میں سویلینز کو نشانہ بنایا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت نے رات کے اندھرے میں معصوم پاکستانیوں کو بزدلانہ حملے میں ٹارگٹ کیا، پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فضائیہ اور پاک فوج بھارتی بزدلانہ حملے کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں، معصوم پاکستانیوں کے خون کا بدلہ ہر صورت لیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارتی حملہ خواجہ آصف ردعمل وزیر دفاع وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی حملہ خواجہ ا صف وزیر دفاع وی نیوز

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل