بھارتی حملوں میں 26 شہری شہید اور 46 زخمی ہوئے، ترجمان پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ روز 6 مقامات پر کیے گئے حملوں میں 26 شہری شہید اور 46 زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ احمد پور شرقیہ میں مسجد سبحان اللہ کو نشانہ بنایا گیا جس میں 13 شہادتیں ہوئیں جن میں 3 سال کی 2 بچیاں بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ شہدا میں 7 خواتین اور 4 مرد شامل ہیں جبکہ 9 خواتین سمیت 37 شہری زخمی ہوئے۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ مظفر آباد کے قریب مسجد بلال کو بھارتی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا جس میں 3 شہری شہید ہوئے جبکہ ایک بچی اور ایک لڑکا زخمی ہوا۔
انہوں نےبتایا کہ کوٹلی میں مسجد عباس کو نشانہ بنایا گیا جس میں 16 سال کی بچی اور 18 سال کا لڑکا شہید ہوا جبکہ ماں اور بیٹی زخمی ہوئے۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ مریدکے میں مسجد ام القریٰ کو نشانہ بنایا گیا جس میں 3 شہری شہید اور ایک زخمی ہوا، سیالکوٹ میں کسی جانی اور مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی جبکہ شکر گڑھ میں بھی بھارتی حملے میں صرف ایک ڈسپنسری کو نقصان ہوا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر رات سے جاری بلااشتعال بھارتی گولہ باری کے نتیجے میں 5 معصوم شہری شہید ہوچکے ہیں جن میں ایک 5 سال کا بچہ بھی شامل ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نشانہ بنایا گیا جس میں شہری شہید زخمی ہوئے پاک فوج
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔