ڈنمارک نے امیگریشن کے نئے ضوابط متعارف کرائے ہیں جو یورپی یونین اور یورپی اکنامک ایریا سے باہر ممالک کے بین الاقوامی طلبا پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، یہ طلبا ان اعلیٰ تعلیمی پروگراموں میں داخلہ لیتے ہیں جو سرکاری طور پر ریاست کی طرف سے تسلیم شدہ نہیں ہیں۔

رواں برس 2 مئی سے نافذالعمل نئے قواعد کے تحت ان طلبا کو پہلے سے دستیاب حقوق اور فوائد کو نمایاں طور پر تبدیل کردیا گیا ہے، جس سے نہ صرف ان کی ملازمت متاثر ہوتی ہے، بلکہ گریجویشن کے بعد ڈنمارک میں رہنا اور خاندان کے دیگر افراد کو ساتھ رکھنے کے امکانات بھی معدوم ہوتے ہیں۔

نئی پالیسی کے تحت اہم تبدیلیاں

ڈنمارک کی وزارت برائے امیگریشن اور انٹیگریشن کے مطابق، نظرثانی شدہ قوانین خاص طور پر غیر ریاستی منظور شدہ اداروں میں زیر تعلیم تیسرے ملک کے شہریوں پر لاگو ہوتے ہیں، تبدیلیوں میں شامل ہیں:

ملازمت کی پابندیاں

ان پروگراموں میں بین الاقوامی طلبا کو مزید پڑھائی کے دوران جز وقتی کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یہ حق جو پہلے انہیں دیا گیا تھا۔

پوسٹ گریجویشن ملازمت کی تلاش کا دورانیہ نہیں

گریجویٹس کو اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد ملازمت کی تلاش کے لیے ڈنمارک میں معمول کے مطابق 6 ماہ کا قیام نہیں ملے گا۔

خاندانی ملاپ کے حقوق، اب نہیں!

غیر منظور شدہ پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبا کو اب اپنے شریک حیات، شراکت داروں یا بچوں کو ڈنمارک لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ان ترامیم کا خاکہ طلبا کو رہائش اور ورک پرمٹ دینے سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر کے ایک تازہ ترین ورژن میں بیان کیا گیا ہے، جو وزارت امیگریشن اور انٹیگریشن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

کون متاثر ہوتا ہے؟

نئے ضوابط یورپی یونین اور یورپی اکنامک ایریا سے باہر ممالک کے بین الاقوامی طلبا اور شہریوں پر لاگو ہوتے ہیں جو غیر ریاستی منظور شدہ تعلیمی پروگراموں میں رجسٹریشن کراتے ہیں یا پہلے سے داخلہ لے چکے ہیں۔

تاہم، وہ لوگ جنہوں نے 2 مئی 2025 سے پہلے رہائشی اجازت نامے حاصل کیے یا درخواست دی، وہ ان تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوں گے، ڈنمارک ایجنسی فار انٹرنیشنل ریکروٹمنٹ اینڈ انٹیگریشن کے مطابق، یہ طلبا اپنے موجودہ محدود ورک پرمٹ رکھ سکیں گے، ان کا گریجویشن کے بعد 6 ماہ کی ملازمت کی تلاش کی مدت کا حق برقرار رہے گا۔

’خاندانی ملاپ کی اہلیت برقرار رہے گی اور انہیں پچھلے قوانین کے تحت ان کے اجازت نامے میں توسیع کی اجازت دی جائے گی۔‘

پالیسی شفٹ کی وجہ

حکومتِ ڈنمارک کے سخت رویے نے طلبا کے ویزوں کے غلط استعمال کے خدشات سے جنم لیا ہے، بین الاقوامی طلبا خاص طور پر نیپال سے تعلق رکھنے والے طلبا کی رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں، جس کے مطابق ان طلبا کی کم معاوضے پر استحصالی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

اسٹوڈنٹ ویزا کے بہانے ڈنمارک میں یا شینگن کے کسی اور علاقے میں غیر قانونی قیام کے خدشات کی وجہ سے حکام پر ویزا کے غلط استعمال کو روکنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا کہ حقیقی طلبا کو اسٹڈی پرمٹ جاری کیے جائیں۔

مستقبل کے درخواست دہندگان کے لیے مشورہ

اگر آپ ڈنمارک میں تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو بہتر ہے کہ ریاست سے منظور شدہ تعلیمی پروگرام کا انتخاب کریں، اگر ممکن ہو تو نئے قوانین کے لاگو ہونے سے پہلے درخواست دیں، ایسی دستاویزات تیار کریں جو آپ کے تعلیمی اور مالیاتی منصوبوں کی حمایت کرتی ہوں۔

یہ سمجھیں کہ خاندان کے دوبارہ اتحاد پر پابندی ہے جب تک کہ کسی منظور شدہ پروگرام میں داخلہ نہ لیا جائے۔

مثبت فہرست کی اپڈیٹ

مزید مثبت نوٹ پر، ڈنمارک نے اپنی مثبت فہرست کو اپ ڈیٹ کیا ہے، جس سے ہنر مند غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے صحت عامہ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ، تعمیرات، زراعت اور انتظامی امور جیسے شعبوں میں ملازمت کے دروازے کھلے ہیں۔

مثبت فہرست کو مزید 2 اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے، اول ہنر مند کام، ایسے کرداروں کے لیے جن کے لیے پیشہ ورانہ قابلیت کی ضرورت ہوتی ہے؛ دوسرا اعلیٰ تعلیم، ان عہدوں کے لیے جن کے لیے یونیورسٹی کی ڈگری درکار ہوتی ہے۔

ان فہرستوں کا مقصد ایسے شعبوں میں ہنرمند کو راغب کرنا ہے جہاں ڈنمارک کو انسانی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، اور اہل افراد کے لیے رہائش اور روزگار کے راستے فراہم کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایگزیکٹو آرڈر ڈنمارک ڈنمارک ایجنسی فار انٹرنیشنل ریکروٹمنٹ اینڈ انٹیگریشن مثبت فہرست نظرثانی شدہ قوانین وزارت امیگریشن اور انٹیگریشن یورپی یونین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایگزیکٹو ا رڈر مثبت فہرست نظرثانی شدہ قوانین وزارت امیگریشن اور انٹیگریشن یورپی یونین بین الاقوامی طلبا پروگراموں میں مثبت فہرست ملازمت کی ہوتے ہیں کے مطابق طلبا کو کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا