خیبر پختونخوا کے اسکولوں میں تمام پروگرام معطل، طلبا کو شہری دفاع کی تربیت دینے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ جنگی صورت حال میں کسی اسکول میں اسپورٹس اور دیگر فنکشن نہیں ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں بھارت کے جنگی جنون کے پیش نظر ہر قسم کے پروگرام معطل کر کے شہری دفاع کی تربیت شروع کرنے کی ہدایت کردی۔ ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے تمام سرکاری و نجی سکری تعلیمی اداروں میں ہر قسم کے پروگرام معطل کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ جنگی صورت حال میں کسی اسکول میں اسپورٹس اور دیگر فنکشن نہیں ہوں گے۔ محکمہ تعلیم نے اسکولوں کے طلبا کو شہری دفاع (سول ڈیفنس) کی تربیت دینے کی ہدایت کرتے ہوئے تیاریاں فوری شروع کرنے کا حکم بھی دیا۔ محکمہ تعلیم نے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں بشمول تعلیمی بورڈز کے سربراہان کو فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے ہدایات پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔