ترک صدر کا وزیراعظم سے رابطہ، بھارتی حملے کے بعد پاکستان سے یکجہتی کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ کشیدگی کم کرنے کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان کے دیرینہ دوست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف سے آج ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا اور بھارت کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کی بلااشتعال جارحیت کے بعد ترکیے کی پاکستان کے ساتھ یک جہتی اور حمایت کی تعریف کی اور انہوں نے بھارت کے میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی جس کے نتیجے میں 26 بے گناہ مرد، خواتین اور بچے شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر بھارت کے بزدلانہ حملے نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستانی شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا اور انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہتے ہوئے پاکستانی عوام کے ساتھ ترکیہ کی یک جہتی کا اعادہ کیا۔
خطے میں امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے پوری قوت اور طاقت کے ساتھ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، بھارت کی بغیر کوئی ثبوت فراہم کیے پہلگام واقعے میں پاکستان کو جھوٹ کی بنیاد پر ملوث کرنے کی کوششوں کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے اس واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات کی پیش کش کا جواب نہیں دیا اور اس کے بجائے جارحیت اور غیر ذمہ دارانہ ریاستی رویے کا خطرناک راستہ اختیار کیا۔
صدر رجب طیب رردوان نے بتایا کہ ترک وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے آج بات کی ہے اور دونوں نے موجودہ حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ کشیدگی کم کرنے کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان کے دیرینہ دوست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور ترک قوم پاکستان کے سفارتی اقدامات کی کامیابی کے لیے دعاگو ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کے انہوں نے کا اعادہ کے ساتھ کے لیے ہے اور
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :