اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان نے اب تک فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارت کے زیراستعمال25   اسرائیلی ساختہ طیاروں کو مار گرایا ہے جس کی تصدیق پاک فوج کے ترجمان نے کردی ہے اور بتایا ہے کہ یہ ہیروپ ڈرونز کا ملبہ اکٹھا کیا جارہا ہے لیکن یہ ڈرون کیا صلاحیت رکھتا ہے، اس بارے تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

آٹومیٹڈ ریسرچ آرگنائزیشن کے مطابق اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کا طیارکردہ ہیروپ سٹینڈ آف لوئٹرنگ گولہ باری سے حملہ کرنے والا ہتھیاروں کا نظام ہے جو اہداف کو تلاش کرنے اور درست طریقے سے حملہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو ہدف کو نشانہ بنانے سے قبل اس کا جائزہ لے سکتا ہے ، اسرائیل کا اس بارے دعویٰ ہے کہ یہ ڈرون اہداف کو تلاش کرتا، شناخت کرتا ہے اور پھرحملہ کر کے تباہ کردیتا ہے اور یہ دو طرفہ ڈیٹالنک کے ذریعے کنٹرول کیاجاسکتا ہے۔ 
اسرائیلی دعویٰ ہے کہ اس کے فضائی دفاع سمیت کثیر القاصد استعمال ہیں، شہری جنگ اور انسداد دہشتگردی مشنز میں بھی استعمال ہوسکتا ہے ، اس کی رفتار225 ناٹس تک ہے جبکہ کمیونیکیشن رینج 200 کلومیٹر اورآپریشنل رینج 1000 کلومیٹر تک ہے ۔ 
یہ ڈرون 9 گھنٹے تک کی پرواز اور 23کلوگرام تک مواد اٹھاسکتا ہے۔

رافیل کی تباہی بھارتی دفاعی نظام کیلئے سٹریٹجک، نفسیاتی اور سفارتی دھچکا،پاکستانی تجزیہ نگار نے بھانڈاپھوڑدیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان