پاکستانیوں کیلیے بیلاروس میں روزگار کے مواقع؛ حکومت کی بڑی پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستانیوں کے لیے بیلاروس میں روزگار کے مواقع سے متعلق حکومت کی جانب سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کی۔ اجلاس میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری اوورسیز پاکستانیز سے پوچھا کہ بیلاروس میں پاکستانیوں کے لیے کتنی نوکریاں دستیاب ہیں، جس پر انہوں نے بتایا کہ بیلاروس میں پاکستانیوں کے لیے انڈسٹری، زراعت، ہاؤسنگ اور نان اسکولز سمیت 1 لاکھ 98 ہزار اسامیاں موجود ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیلاروس میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے پاکستانیوں کو روسی زبان سکھائی جا رہی ہے۔ یہ زبان سکھانے کا عمل نمل یونیورسٹی کے ذریعے جاری ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے دریافت کیا کہ کن شعبوں کے افراد بیرون ملک جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟، جس پر سیکرٹری نے بتایا کہ آج کی دنیا صرف اسکلڈ یعنی مہارت رکھنے والے افراد کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیلاروس کے ٹریکٹرز دنیا بھر میں مشہور ہیں اور یورپ میں سیزنل لیبر کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے سیزنل لیبر کی واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
سیکرٹری نے کہا کہ سیزنل لیبر کے حوالے سے اٹلی نے پاکستان پر اعتماد کیا ہے اور ہماری لیبر کو ملازمت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ پاکستانیوں کو بیلاروس جانے کی اجازت کب تک ممکن ہوگی؟، جس پر سیکرٹری نے وضاحت کی کہ بیلاروس کے لیے ویب سائٹ کھلی ہوئی ہے اور پاکستانی براہ راست اپلائی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2 ماہ کے اندر بیلاروس کے ساتھ ہمارا ایم او یو (معاہدہ) بھی طے پا جائے گا۔ بیلاروس میں کم از کم تنخواہ 7 ڈالر مقرر کی گئی ہے، جو پاکستانیوں کے لیے ایک بہتر موقع ہو سکتا ہے۔
اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے صحت سہولت پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی۔ سی سی او محمد ارشد نے بتایا کہ 20 کروڑ پاکستانی اس پروگرام کا حصہ ہیں اور اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد نے صحت سہولیات حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے لے کر ایک عام پاکستانی تک سب کے لیے ایک جیسا پیکیج اور سہولت دستیاب ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانیوں کے لیے بیلاروس میں نے بتایا کہ کہ بیلاروس انہوں نے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔