پرنس رحیم آغاخان کا وزیراعظم شہباز شریف کو خط، پاکستان اور بھارت میں ثالثی کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پرنس رحیم آغاخان پنجم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیددگی پر گہرے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا اور آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) کے سربراہ پرنس کریم آغاخان پنجم نے وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کو خط لکھ کر پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کی کوششوں اور معاونت کی پیشکش کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: لزبن، اسماعیلی برادری کے 50ویں امام پرنس رحیم آغا خان پنجم تخت نشین ہوگئے
خط میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ صورتحال پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ‘یہ میری امید اور دعا ہے کہ دونوں طرف انسانی جانوں کے ضیاع اور نقصان کو کم کرنے کے لیے اس تنازع کے پرامن حل تک جلد پہنچا جائے’۔
انہوں نے لکھا، ‘اسماعیلی امامت ایک غیر سیاسی ادارہ ہے جس کے انڈیا اور پاکستان کے ساتھ تاریخی روابط ہیں’۔
یہ بھی پڑھیے: پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے کن ممالک نے رابطے کیے؟
آغاخان پنجم نے کشیدگی ختم کرنے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنے تعاون اور مدد کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھی خط لکھ دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
akdn pakistan india Prince rahim aga khan mediation in pak india escalation اسماعیلی پاک بھارت کشیدگی پرنس رحیم آغاخان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسماعیلی پاک بھارت کشیدگی کے لیے
پڑھیں:
کالج میں دیمک زدہ نقدی اور ’خفیہ کمرہ‘ برآمد، سیاسی پارٹیوں میں کشیدگی
۔
۔
کولکاتا کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں صفائی مہم کے دوران حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں دیمک زدہ ایک لاکھ روپے سے زائد نقدی برآمد ہوئی، جبکہ بعد ازاں ایک مبینہ ’خفیہ کمرہ‘ بھی دریافت ہوا جس نے ادارے کے انتظامی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
دیمک زدہ رقم زیادہ تر 100 اور 500 روپے کے نوٹوں پر مشتمل تھی، جو دو پرانے سفری سوٹ کیسز میں ایک الماری کے اندر رکھی گئی تھی۔ حکام کے مطابق یہ نوٹ شدید طور پر خراب اور دیمک زدہ حالت میں پائے گئے۔
یہ صفائی مہم مون سون سے قبل تعلیمی ادارے کی صفائی اور بہتری کے لیے شروع کی گئی تھی، جس کی ہدایت شہری انتظامیہ کی جانب سے دی گئی تھی۔ دورانِ کارروائی جب کمروں کی جانچ پڑتال کی گئی تو یہ نقدی برآمد ہوئی۔
ایک اہلکار کے مطابق، ’زیادہ تر نوٹ خراب اور گندے ہو چکے ہیں۔ ان کی مکمل فہرست (انوینٹری) تیار کی جا رہی ہے اور ویریفیکیشن کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔‘
نقدی کے ذریعے اور اسے رکھنے والے افراد کی شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے، تاہم اس واقعے نے سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔
بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے رکن اسمبلی سجل گھوش نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے پیچھے بدعنوانی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کالج یونین روم میں اتنی بڑی رقم کسی کی معلومات کے بغیر کیسے موجود رہ سکتی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ادھر کالج انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
واقعے کے اگلے روز حکام نے سرندرناتھ کالج میں ایک مبینہ ’خفیہ کمرہ‘ بھی دریافت کیا، جسے مبینہ طور پر ترنمول کانگریس کے ایک رہنما سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق جب وہ یونیورسٹی کی چھت تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو انہیں ایک مکمل طور پر تیار شدہ کمرہ ملا، جس میں ایئر کنڈیشنر، آرام دہ بستر، دیوار پر لگی گھڑی اور آرائشی پینٹنگز موجود تھیں۔
اس کے ساتھ ہی ایک جدید اور مکمل طور پر تیار شدہ واش روم بھی برآمد ہوا۔ مزید برآں، حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی کمرے سے ایک آتشیں اسلحہ بھی ملا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ یہ کمرہ کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا اور یہاں کون کون آتا جاتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا دیمک زدہ کرنسی نوٹ کولکتہ کالج