اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدر زرداری نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور تمام افواج کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بہادری اور انتھک محنت نے اس جنگ میں ہمیں فتح سے ہمکنار کیا۔ کشیدگی جنگ بندی پر صدر  نے اپنے بیان میں کہا کہ مجھے پاکستان کی مسلح افواج، پاک بحریہ اور فضائیہ پر ہمیشہ سے یقین رہا ہے، ہم نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، ہم نے بھارت کی نام نہاد فوجی قوت کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے۔ آج ہماری قوم کا عزم بے  مثال ہے۔ یہی عزم ہمارے آباؤ اجداد کے دو قومی نظریہ کو تقویت بخشتا ہے۔ بحیثیت اسلامی ریاست اور اللہ پر ہمارے ایمان نے ہمیں اپنے حجم سے پانچ گنا زیادہ ملک کے خلاف کھڑے ہونے کی طاقت اور ہمت عطا کی۔ قوم کو خوشی منانی چاہیے اور شہادت پانے والوں کے لیے دعا بھی کرنی چاہئے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام تنازعہ جموں و کشمیر کے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل اور دیگر مرکزی مسائل بالخصوص سندھ طاس معاہدہ کے حل میں ہے۔ میں ان تمام دوست ممالک بشمول چین، امریکہ، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس مْشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے۔ پاکستان اشتعال انگیزی نہیں چاہتا، امن کا خواہاں ہے لیکن ہم اپنی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان