کھانے کا سیاسی و سماجی مکالمہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
دیکھو میاں، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اقتدارکے ماہ پرش جنگ و جدل میں مصروف ہیں۔ ہمارے نزدیک تو یہ سرمایہ داروں کے منافع سمیٹنے کے چونچلے ہیں، ہم تو سمجھتے ہیں کہ دونوں اطراف کے عوام کی اکثریت امن کے شیدائی لوگوں کی ہے اور وہ ہرکام مل جل کر محبت پیار اور امن سے انجام دینا چاہتے ہیں اور یہی ہمارا نکتہ نظر ہے کہ کھانے پینے میں بھی اتحاد، سکون اور امن کا ہونا بہت ضروری ہے، اب آپ کو ہمارے امن سے کھانے پینے پر بھی اعتراض ہے تو اس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔
یہ ہمارے سب ساتھیوں کا مشترکہ مشن ہے کہ جب تک ہم کسی دسترخوان سے کھانے پینے اور ڈکار آنے تک پیٹ بھرنے کی اچھی طرح یقین دہانی نہیں کرلیتے، ہم اس وقت تک دستر خوان چھوڑتے نہیں،کیونکہ ہم سے زیادہ بھلا دستر خوان کی حرمت و عزت اور اس کی قدرکوکوئی کیا جانے۔
ہمارے ساتھیوں کے اس پر امن طرز عمل پر بھی یار لوگوں کو اعتراض ہے تو ہم بھی سب سے لاتعلق ہوکر بے خبر بن جاتے ہیں کہ ہمارے طرز عمل پر محفل کیا سوچ رہی ہے اور کیا کررہی ہے کیونکہ ہم اپنے کھانے پینے کا کام نہایت ایمانداری سے سر انجام دیتے ہیں، ہمیں اس سے غرض نہیں کہ عارف شاہ ہماری پرامن کاوش پر کیا رائے رکھتے ہیں یا بھائی نیر ہمارے خلاف کیا پروپیگنڈا کرتے ہیں یا ناصر ہماری صفوں پر کس طرح کی جاسوسی کرتا ہے اور تو اور ہمیں قطعی امید نہ تھی کہ ادبی خانوادہ ابوذر بھی ان شرپسندوں کا حامی کار بن جائے گا یا کہ اس محفل میں کون کون ہم پر عقاب مانند نظریں گاڑے بیٹھا ہے۔
اس تمام سے ہمارا نہ تعلق ہے اور نہ ہمیں اس سے سروکار کہ ہمارے متعلق کون کیا سوچتا ہے یا کیا رائے رکھتا ہے؟ اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے۔البتہ ہمارے خلاف جب ایک دوست نے الٹا سیدھا پروپیگنڈا کرنا شروع کیا تو ہم نے بھی ’’گروپ‘‘ کا اجلاس بلا کر رد عمل کے طور پر اس کا نام بدل دیا، اب ہم نہیں جانتے کہ اس کا کتنا تعلق پنجاب سے ہے یا نہیں البتہ اسی نیر پنجابی نے ہمیں پوری برادری میں ’’نیازی گروپ‘‘ کے نام سے ایسا بدنام کیا ہے کہ برادری کا بچہ بچہ کمبخت ہمیں نیازی گروپ سے جانتا ہے اور ہمارے گروپ کے ہر فرد پر نظر رکھتا ہے۔
اب آپ خود انصاف کیجیے کہ ہمارے ساتھیوں کوکھانے کی کھوجنا کرنے ایسے محنت طلب کام کے بعد اتنی فرصت قطعی نہیں ہوتی کہ ہم بے تکے لوگوں کی فضول باتوں کی پرواہ کرتے پھریں۔ آپ خود سوچیے کہ کھوجنا کرنے کا ماحول اور تعمیری سوچ ویسے ہی سماج سے رخصت ہوتی چلی جا رہی ہے تو ایسے میں کھوجنا کے جان جوکھوں والا کام ہم سب ساتھی کر رہے ہیں اور واٹس ایپ کے تحت آپس میں جڑے ہوئے ہیں توکیا یہ ہمارا اس سماج پر احسان نہیں؟
سوچیے جو سماج بغیر تحقیق اور بن کھوجنا کے ’’فیک نیوز‘‘ چلا رہا ہے اور ساری نسل بے وقوفوں کی طرح جاگ کر موبائل کی دنیا میں گھس کر اپنا وقت اور صحت خراب کر رہی ہے توکیا یہ اچھا سماجی یا فطری عمل ہے جب کہ سماج میں اکثریت ان فیک نیوز لوگوں کے اس جھوٹ و فریب اور انتشار پسند خبر پر لوگ فوری طور پر ایمان لے آتی ہے، تو یہ کوئی صحت مند بات تو ہرگز نہیں۔
دوسری جانب اب اگر ہمارا گروپ اتحاد اور امن سے صحت مند رہنے کی غرض سے دستر خوان اور رزق کی عزت افزائی کررہا ہے تو یار لوگوں کو نجانے کیوں اعتراض ہے۔قصہ دراصل یہ ہے کہ ہمارے اس امن پسند اور صحت مند روایات کے گروپ کی ابتدا چیئرمین پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں پڑی تو یار لوگوں نے پہلے تو ہم پر ٹائیگر بننے کا الزام عائد کیا اور جب اس سے بھی کام نہ چلا تو ہمارے گروپ ہی کو نیازی گروپ پکارنے لگے، اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ اگر چیئرمین پی ٹی آئی کے کھانے کے طور طریقے یار لوگوں کو پسند نہیں تو اس میں ہمارے پرامن صحت مند رہنے والے دوستوں کا کیا قصور؟
مانا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے متعلق یہ مشہورکیا گیا کہ وہ اپنی جیب سے کھانے پینے کے بجائے دوسروں کے دسترخوان پرکھانے کو پسند کرتے ہیں۔ اب بتائیے کہ اگر کوئی چیئرمین پی ٹی آئی کو ہینڈسم سمجھ کرکھانے پر بلا رہا ہے تو اس میں بیچارے چیئرمین پی ٹی آئی کا کیا قصور … یہ بات ٹھیک ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی ایک معروف شخصیت ہیں سو انھیں لوگ کھانے پر مدعو کر لیتے ہیں۔
اب ہم ٹھہرے شریف اور متوسط طبقے کے افراد جس میں سے کوئی بھی فرد مشہور و معروف نہیں ہے، سو ہمارا گروپ اگر اپنی تحقیق کی بنا پر مرنے سے لے کر سوئم اور چالیسویں کے کھانے کی خبر رکھتا ہے یا کسی بھی کھانے کی تقریب کی خبر ہم رکھتے ہیں تو اس میں حرج یا پروپیگنڈا گروپ کو اعتراض کیا ہے؟دیکھیے صاحب۔ اب اس میں کسی کو برا لگے یا بھلا، ہم تو اپنے چیئرمین پی ٹی آئی کے بہت ممنون و مشکور ہیں کہ انھوں نے عوام کی بھوک و پیاس ختم کرنے کے لیے دوسروں کے پیسوں سے ’’لنگر خانے‘‘ کھولے اور انھی کے دور میں عوام کی آزادی سے زیادہ ہمارے چیئرمین پی ٹی آئی کو جانوروں کی آزادی کی فکر لاحق رہتی تھی، تبھی تو انھوں نے وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوتے ہی تمام کٹے اور بھینسوں کو آزاد کرنے کی مہم چلا کر سارے جانوروں کو نیلام کر کے آزادی دلوائی۔
اب آپ ’’شیرو‘‘ کی آزادی کو ہی دیکھ لیجیے کہ شیرو ہمارے چیئرمین پی ٹی آئی کا کتنا وفادار اور آزادی پسند تھا کہ ایک مرتبہ چند قبائیلیوں نے چیئرمین پی ٹی آئی سے اپنے مسائل پر بات چیت کے لیے وقت لیا تو ہمارے چیئرمین پی ٹی آئی نیازی نے انتہائی سخاوت سے انھیں کہا کہ’’آپ صبح ناشتے پر آجائیں‘‘ اب جیسے ہی یہ قبائلی عمائدین وہاں پہنچے تو ایک بڑے پیالے میں چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے دلیہ لایا گیا اور چیئرمین پی ٹی آئی وہ دلیہ تناول کرنے لگے جب کہ عمائدین اپنے ناشتے کا انتظارکرنے لگے۔
اتنی دیر میں شیروکمرے میں داخل ہوا اور اچھل اچھل کر عمائدین کے پاس جاتا رہا جب کہ ہمارے چیئرمین پی ٹی آئی، شان بے نیازی سے دلیہ کھاتے رہے، اسی اثنا میں شیرو نے وفاداری کی ایسی دھماچوکڑی مچائی کہ عمائدین نے آخرکار بغیر ناشتے ہی اجازت لینے میں اپنی خیریت چاہی۔
اب اس واقعے کی روح کو سمجھتے ہوئے ہی ہمارا گروپ کسی بھی سوئم، چہلم یا برسی کی تقریب میں بغیرکسی کی پرواہ کیے بنا خوب سیر ہوکر کھانے پر توجہ دیتے ہیں اور پر امن طور سے محفل سے رخصت ہوجاتے ہیں، اب بتائیں کہ ہمارے اس پرامن عمل اورکھوجنائی عمل کو ’’نیر پنجابی‘‘ نے اس قدر دریدہ کردیا ہے کہ اب ہمارے گروپ کے تحفظ اور بقا کا مسئلہ بن گیا ہے، ہم اب بھی پر امید ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی، اڈیالہ سے بحفاظت واپس آکر ہماری داد رسی کریں گے اور ہمارے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے شرپسندوں کے خلاف کوئی نہ کوئی قانونی کارروائی ضرورکریں گے، پتہ نہیں کیوں ہمارے خلاف مہم چلانے والے نہیں سمجھتے کہ ’’رزق نصیب کا ہوتا ہے اور ایک ایک دانے پرکھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے‘‘ جو نہیں کھا پاتے وہ بدنصیب ہی تو ہوتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہمارے چیئرمین پی ٹی ا ئی چیئرمین پی ٹی ا ئی کے کھانے پینے ہمارے خلاف یار لوگوں کہ ہمارے ہے اور ہیں کہ
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔