چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت ایمرجنسی صورت حال کے حوالے سے اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت ایمرجنسی صورت حال کے حوالے سے اجلاس WhatsAppFacebookTwitter 0 10 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام اور ڈی جی سول ڈیفنس محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ملکی ایمرجنسی صورت حال اور اس حوالے سے تیاریوں کے جائزہ کے لئے اہم اجلاس ،اجلاس میں سی ڈی اے بورڈ ممبران، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، وزارت تعلیم سمیت پنجاب، کے پی کے، سندھ، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان کے سول ڈیفنس کے افسران کے علاوہ صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے بزریعہ زوم لنک شرکت کی۔ ،۔چیئرمین سی ڈی اے و ڈی جی سول ڈیفنس کا موجودہ ملکی حالات میں تمام صوبوں کے مابین رابطہ اور کوارڈینیشن کو مزید موثر بنانے اور رضاکاروں کو مزید متحرک کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اجلاس میں اسلام آباد سمیت تمام صوبوں ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے سول ڈیفنس اور متعلقہ افسران نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اپنی بھرپور تیاریاں کے حوالے سے بریفننگ دی ۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ اسلام آباد اور صوبائی دارلحکومتوں ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرمیں کنٹرول رومز قائم کر دئیے گئے ہیں اور فوکل پرسنز بھی نامزد کردئیے گئے ہیں۔موجودہ حالات کے پیش نظر نجی و سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بیڈز اور وارڈ مختص کردئیے۔موجودہ ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد سمیت پورے ملک میں ایمبولینسز اور فائر فائٹرز 24/7 الرٹ ہیں۔ ملک بھرمیں رضاکاروں کو متحرک کردیا گیا ہے، جبکہ رضا کاروں کی تعداد میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے اورکسی بھی ایمر جنسی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لئے بھر پور تیاری مکمل ہے۔
ملک بھر میں سول ڈیفنس اور دیگر صوبائی اداروں نیرضاکاروں کو انخلا، آگ بجھانے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تربیت دی گئی ہے، جنکہ مزید افراد کو تربیت فراہم کی جارہی ہے ۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی معاونت سے سیف سٹی کنٹرول روم مکمل طور پر فعال ہیں اور لمحہ بہ لمحہ صورتحال کی نگرانی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔اسلام آباد شہر اور پورے ملک میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے آگاہی کے لیے مختلف مقامات پر سائرن لگائے گئے ہیں، ہنگامی صورتحال کے پیش نظر رضاکاروں نے اسلام آباد سمیت ملک بھر کی بلند عمارات میں مشقی ڈرلز (موک) مکمل کر لی ہیں، جبکہ مزید مشقوں کا عمل جاری رکھنے کی ہدایت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مساجد میں اعلانات کے انتظامات بھی مکمل ہیں۔
ایمرجنسی صورتحال کے بروقت رسپانس کے لئے فائر بریگیڈز کی گاڑیاں ، فائر فائٹرز اور متعلقہ عملہ بھی مستعد اور متحرک ہے۔قومی ایمرجنسی کے پیش نظر تمام صوبوں میں رضاکاروں کی تعداد میں مزید اضافہ جبکہ ان کو متحرک کرنے کی ہدایت کی ۔چیئر مین سی ڈی اے نے کہا کہ اجلاس میں کنٹرول روم، ہوم ڈیپارٹمنٹ ، ریسکیو، سمیت دیگر اداروں کے مابین مثر کوارڈینیشن کو یقینی بنایا جائے ،شہریوں میں من گھڑت اور فیک نیوز کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی اختیار کی جائے تاکہ شہریوں کو مکمل اور مصدقہ خبریں بروقت پہنچائی جائیں ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے مکمل طور پر بحال کر دی گئی پاکستان کی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے مکمل طور پر بحال کر دی گئی پاکستان اوربھارت نے فوری جنگ بندی پراتفاق کیاہے:نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی تصدیق بانی پی ٹی آئی کی پے رول پر رہائی کی درخواست آفس اعتراضات کے ساتھ واپس بھارت اور پاکستان مکمل اور فوری جنگ بندی پر مان گئے، ٹرمپ کا اعلان پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کیلئے پرنس رحیم آغا خان کی ثالثی کی پیشکش پاکستان کا منہ توڑ جواب،بھارت ”بیک فٹ ”پر،جلد سیز فائر کا اعلان متوقعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین سی ڈی اے ایمرجنسی صورت کے حوالے سے صورت حال حال کے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔