آزاد کشمیر بھر میں پاک افواج کے حق میں ریلیاں
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
ذرائع کے مطابق شہریوں نے کہا کہ پاک افواج نے مکار دشمن کو ایک دندان شکن جواب دے کر قوم کے سر فخر سے بلند کر دیے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کا خیز مقدم کیا ہے۔ شہریوں نے مکار بھارت کی ننگی جارحیت کے خلاف پاکستان آرمی کی بھرپور جوابی کاروائی کو سراہا اور پاک افواج کے حق میں ریلیاں نکالیں۔ ذرائع کے مطابق شہریوں نے کہا کہ پاک افواج نے مکار دشمن کو ایک دندان شکن جواب دے کر قوم کے سر فخر سے بلند کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں مگر بھارت نے گزشتہ 77 برس سے کشمیریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے اور ابنے فالس فلیگ آپریشنوں کی آڑ میں پاکستان پر چڑھ دوڑنے کا ایک مذموم سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کا جواب دینا ضروری تھا۔ دریں اثنا راولا کوٹ کے شہر کائی گلہ میں پاک افوج کے حق میں ایک شاندار ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا اہتمام ”حق دو تحریک“ نے کیا تھا۔ شرکاء نے پاک فوج کے حق میں اور بھارتی جارحیت کیخلاف نعرے لگائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاک افواج کے حق میں
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔