ملک کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشیں جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پنجاب،خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھاربارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد اورراولپنڈی میں تیز ہواوں کےساتھ بارش ہوئی جبکہ مختلف مقامات پردرخت گرگئے۔
لیسکو ریجن میں آندھی کے ساتھ بارش سے 29 فیڈرز پر بجلی کی فراہمی متاثر رہی، مری میں تیزہواوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری ہوئی جس سے ہرطرف سفیدی چھا گئی۔
آزاد کشمیر کے علاقے سماہنی اور گردو نواح میں تیز آندھی کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی، کھوئی رٹہ اورنواحی علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کے بعد موسم خوشگوار ہوگیا۔
"کراچی میں موت کا ننگا ناچ" بھارتی میڈیا کا مذاق اڑاتے پاکستانیوں کی ایک اور ویڈیو وائرل ہوگئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔