’بُنیان مرصوص‘ آپریشن کا نام بھارتی حملے میں شہید مسجد کی محراب سے آیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
مظفرآباد میں بھارتی فضائی حملے میں شہید کی گئی مسجد کے محراب پر کندہ قرآن پاک کی آیت کے آخری الفاظ ’’بُنیان مرصوص‘ پاکستان کی جوابی کارروائی کا عنوان بن گئے۔ بھارتی جارحیت کے بعد پاکستان نے عظیم الشان اور بھرپور فوجی ردعمل کے تحت ’’آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ کا آغاز کیا، جو بھارت کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔چھ اور سات مئی کی درمیانی شب بھارتی میزائل نے مظفرآباد کی ایک مسجد کو شدید نقصان پہنچایا۔جس کے بعد ہفتے کی شام پانچ بجے ’’بُنیان مرصوص‘’ شروع ہوا۔ اس آپریشن میں بھارتی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا گیاے، جن میں کئی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ بھارتی فضائیہ کے حملوں اور ڈرون کارروائیوں کے بعد یہ جوابی کارروائی پاکستان کی عسکری صلاحیت، اتحاد اور عزم کا منہ بولتا ثبوت بن گئی ہے۔
آپریشن کا نام ’’بُنیان مرصوص‘‘ کیوں رکھا گیا؟
یہ اصطلاح قرآن مجید کی سورۃ الصف (61:4) کی ایک آیت سے لی گئی ہے:
ترجمہ: ”یقیناً اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اس طرح لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔“
”بُنیان“ کا مطلب ہے عمارت یا دیوار، اور ”مرصوص“ کا مطلب ہے مضبوطی سے جڑی ہوئی یا سیسہ پلائی ہوئی۔ یوں ”بُنیان مرصوص“ ایک ایسی متحد اور ناقابلِ تسخیر طاقت کی علامت ہے جو دشمن کے سامنے فولادی دیوار بن کر کھڑی ہو۔یہی آیت اُس مسجد کے محراب پر لکھی گئی تھی جو بھارتی حملے میں شہید ہوئی۔ پاکستانی فوج نے اسی محراب سے پیغام لیتے ہوئے، بزدل دشمن کو بتا دیا کہ یہ قوم اپنی مقدس سرزمین، دین اور عزت کی حفاظت کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہے۔یہ آپریشن نہ صرف فوجی ردعمل ہے بلکہ ایک روحانی اور نظریاتی پیغام بھی ہے، کہ پاکستان صرف ہتھیار سے نہیں، ایمان، اتحاد اور قربانی سے لڑتا ہے۔معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم اکثر جہاد کے جذبے سے سرشار اہلِ ایمان کو ’’بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ یعنی آہنی دیوار قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک یہی وہ بندے ہیں جو اللہ کے محبوب ہیں، اور آج پاکستان نے اسی تصور کو عملی شکل دے دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ب نیان مرصوص
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔